کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: دشمن جنگ میں کسی مسلمان کا مال لوٹ کر لے جائے پھر مالک اسے غنیمت میں پائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2698
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سُهَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ غُلَامًا لِابْنِ عُمَرَ أَبَقَ إِلَى الْعَدُوِّ فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يَقْسِمْ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَالَ غَيْرُهُ : رَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ان کا ایک غلام دشمنوں کی جانب بھاگ گیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلام عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس دے دیا ، اسے مال غنیمت میں تقسیم نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : دوسروں کی روایت میں ہے خالد بن ولید نے اسے انہیں لوٹا دیا ۔
حدیث نمبر: 2699
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، الْمَعْنَى قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ :ذَهَبَ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ فَلَحِقَ بِأَرْضِ الرُّومِ ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ . بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا ، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس لوٹا دیا گیا ، اور ان کا ایک غلام بھاگ کر روم چلا گیا ، پھر رومیوں پر مسلمان غالب آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ( بھی ) انہیں غلام واپس لوٹا دیا ۔