کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قیدی کو باندھ کر تیروں سے مار ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2687
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ ابْنِ تِعْلَى ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبِعَةِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ لَنَا غَيْرُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : بِالنَّبْلِ صَبْرًا فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن تعلی کہتے ہیں کہ` ہم نے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کے ساتھ جہاد کیا تو ان کے سامنے عجمی کافروں میں سے چار طاقتور اور ہٹے کٹے کافر لائے گئے انہوں نے ان کے متعلق حکم دیا تو وہ باندھ کر قتل کر دیئے گئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہم سے سعید بن منصور کے سوا اور لوگوں نے ابن وہب سے یہی حدیث یوں روایت کی ہے کہ پکڑ کر نشانہ بنا کر تیروں سے مار ڈالے گئے ، تو یہ خبر ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر مرغی بھی ہو تو میں اس کو اس طرح روک کر نہ ماروں ، یہ خبر عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کو پہنچی تو انہوں نے ( اپنی اس غلطی کی تلافی کے لیے ) چار غلام آزاد کئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, بكير بن عبد اللّٰه بن الأشج رواه عن أبيه عن عبيد بن تعلي به انظر مسند أحمد (422/5ح23987), و أبوه : مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان فيما أعلم فالسند معلل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 98
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3475)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/422)، سنن الدارمی/الاضاحي 13 (2017) (حسن) »