کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دشمن کو آگ سے جلانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2673
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَهُ عَلَى سَرِيَّةٍ قَالَ : فَخَرَجْتُ فِيهَا ، وَقَالَ : " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ ، فَوَلَّيْتُ فَنَادَانِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَاقْتُلُوهُ وَلَا تُحْرِقُوهُ ، فَإِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک سریہ کا امیر بنایا ، میں اس سریہ میں نکلا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر فلاں کافر کو پانا تو اسے آگ میں جلا دینا “ ، جب میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا ، میں لوٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس کو پانا تو مار ڈالنا ، جلانا نہیں ، کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کے رب کو سزاوار ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: البتہ آگ سے کافروں کے کھیتوں، باغوں اور بستیوں کو جلانا ثابت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3441)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/494) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2674
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ ، وَقُتَيْبَةُ ، أن الليث بن سعد . حدثهم عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ فَقَالَ : " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک جنگ میں بھیجا اور فرمایا : ” اگر تم فلاں اور فلاں کو پانا “ ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (3016)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجھاد 149 (3016)، سنن الترمذی/السیر 20 (1571)، (تحفة الأشراف: 13481)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/307، 338، 453) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2675
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : غَيْرُ أَبِي صَالِحٍ ،عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا فَقَالَ مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ قُلْنَا نَحْنُ قَالَ : " إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے ، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے ، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا ، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ، اور ( یہ دیکھ کر ) فرمایا : ” اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے ؟ اس کے بچے کو اسے واپس کرو “ ، اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا تو پوچھا : ” اس کو کس نے جلایا ہے ؟ “ ہم لوگوں نے کہا : ہم نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ سے عذاب دینا آگ کے مالک کے سوا کسی کو زیب نہیں دیتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3542)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/404)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (5268) (صحیح) »