حدیث نمبر: 2666
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سب سے بہتر قتل کرنے والے صاحب ایمان لوگ ہیں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ قتل اچھے طریقے سے کرتے ہیں زیادتی نہیں کرتے مثلاً مثلہ وغیرہ نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 2667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ الْهَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ ، أَنَّ عِمْرَانَ أَبَقَ لَهُ غُلَامٌ ، فَجَعَلَ لِلَّهِ عَلَيْهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ ، فَأَرْسَلَنِي لِأَسْأَلَ لَهُ ، فَأَتَيْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ ، فَأَتَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ` عمران ( یعنی : ہیاج کے والد ) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے ، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا ، میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ان سے پوچھا ، تو انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ۱؎ سے روکتے تھے ، پھر میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے ( بھی ) پوچھا : تو انہوں نے ( بھی ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: مقتول کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل و صورت کو بگاڑ دینے کو مثلہ کہا جاتا ہے، مثلہ کا عمل درست نہیں ہے البتہ اگر کسی کافر نے کسی مقتول مسلم کا مثلہ کیا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کا مثلہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیوں کے ساتھ کیا تھا، اسی طرح اگر کسی مسلمان نے کسی مسلمان کے ساتھ مثلہ کیا ہے تو بطور قصاص اس کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جا سکتا ہے۔