کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے۔
حدیث نمبر: 2640
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں ، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہو گئے ، سوائے اس کے حق کے ( یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا ) اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2640
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح متواتر , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (21)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الإیمان 1(2606)، سنن النسائی/المحاربة 1 (3981)، سنن ابن ماجہ/الفتن (3927)، (تحفة الأشراف: 12506)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 102 (2946)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (2610)، مسند احمد (2/ 314، 377، 423، 439، 475، 482، 502) (صحیح متواتر) »
حدیث نمبر: 2641
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا وَأَنْ يَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا وَأَنْ يُصَلُّوا صَلَاتَنَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» ” نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ کی گواہی دینے ، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے ، ہمارا ذبیحہ کھانے ، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں ، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہو گئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقوق عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2641
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح خ نحوه دون قوله لهم ما ... إلا تعليقا , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (392)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصلاة 28 (392)، سنن الترمذی/الایمان 2 (2608)، سنن النسائی/تحریم الدم 1 (3972)، والإیمان 15 (5006)، (تحفة الأشراف: 706)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/199،224) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2642
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ بِمَعْنَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں سے قتال کروں “ ، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2642
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (2641)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 789)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصلاة 28 (393 تعلیقًا) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ فَنَذِرُوا بِنَا فَهَرَبُوا ، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ ، فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ ، قَالَ : أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَالَهَا أَمْ لَا مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " . فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حرقات ۱؎ کی طرف ایک سریہ میں بھیجا ، تو ان کافروں کو ہمارے آنے کا علم ہو گیا ، چنانچہ وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے ، لیکن ہم نے ایک آدمی کو پکڑ لیا ، جب ہم نے اسے گھیرے میں لے لیا تو «لا إله إلا الله» کہنے لگا ( اس کے باوجود ) ہم نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن «لا إله إلا الله» کے سامنے تیری مدد کون کرے گا ؟ “ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے یہ بات تلوار کے ڈر سے کہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ کیوں نہیں لیا کہ ۲؎ اس نے کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا ہے یا ( تلوار کے ڈر سے ) نہیں ( بلکہ اسلام کے لیے ) ؟ قیامت کے دن «لا إله إلا الله» کے سامنے تیری مدد کون کرے گا ؟ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر یہی بات فرماتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے سوچا کاش کہ میں آج ہی اسلام لایا ہوتا ۔
وضاحت:
۱؎: جہینہ کے چند قبائل کا نام ہے۔
۲؎: زبان سے کلمہ شہادت پڑھنے والے کا شمار مسلمانوں میں ہو گا، اس کے ساتھ دنیا میں وہی سلوک ہو گا جو کسی مسلم مومن کے ساتھ ہوتا ہے اس کے کلمہ پڑھنے کا سبب خواہ کچھ بھی ہو، کیونکہ کلمہ کا تعلق ظاہر سے ہے نہ کہ باطن سے اور باطن کا علم صرف اللہ کو ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «أفلا شققت عن قلبه» کا یہی مفہوم ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6872) صحيح مسلم (96)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المغازي 45 (4269)، والدیات 2 (6872)، صحیح مسلم/الإیمان 41 (96)،سنن النسائی/الکبری (8594)، (تحفة الأشراف: 88) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2644
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي ، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ ، فَقَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْتُلْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَطَعَ يَدِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے اگر کافروں میں کسی شخص سے میری مڈبھیڑ ہو جائے اور وہ مجھ سے قتال کرے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اس کے بعد درخت کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے : میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا ، تو کیا میں اسے اس کلمہ کے کہنے کے بعد قتل کروں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں تم اسے قتل نہ کرو “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے قتل نہ کرو ، کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو قتل کرنے سے پہلے تمہارا جو مقام تھا وہ اس مقام میں آ جائے گا اور تم اس مقام میں پہنچ جاؤ گے جو اس کلمہ کے کہنے سے پہلے اس کا تھا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ معصوم الدم قرار پائے گا اور تمہیں بطور قصاص قتل کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6869) صحيح مسلم (95)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المغازي 12 (4019)، والدیات1 (6865)، صحیح مسلم/الإیمان 41 (95)، (تحفة الأشراف: 11547)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/3، 4، 5، 6) (صحیح) »