کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: شب خون (رات میں چھاپہ) مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2638
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَبَيَّتْنَاهُمْ نَقْتُلُهُمْ وَكَانَ شِعَارُنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَمِتْ أَمِتْ ، قَالَ سَلَمَةُ : فَقَتَلْتُ بِيَدِي تِلْكَ اللَّيْلَةَ سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا ، ہم نے مشرکین کے کچھ لوگوں سے جہاد کیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا ، ہم انہیں قتل کر رہے تھے ، اور اس رات ہمارا شعار ( کوڈ ) «أمت أمت» ۱؎ تھا ، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکوں کو قتل کیا ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اے مدد کرنے والے دشمن کو فنا کر۔
۲؎: اس حدیث سے کافروں پر شب خون مارنے کا جواز ثابت ہوا اگر اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2638
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3950), انظر الحديث السابق (2596)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الجھاد 30 (2840)، (تحفة الأشراف: 4516)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/46)، سنن الدارمی/السیر 15 (2495) (حسن) »