کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: لشکر کو اکٹھا رکھنے اور دوسروں کے لیے جگہ چھوڑنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 2628
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ ، وَيَزِيدُ بْنُ قُبَيْسٍ مِنْ أَهْلِ جَبَلَةَ سَاحِلِ حِمْصٍ وَهَذَا لَفْظُ يَزِيدَ قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا ، قَالَ عَمْرٌو : كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ ، إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَلَمْ يَنْزِلْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنْزِلًا إِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى يُقَالُ لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` لوگ جب کسی جگہ اترتے ، عمرو کی روایت میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جگہ اترتے تو لوگ گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاتے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی جانب سے ہے ۱؎ “ ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ نہیں اترے مگر بعض بعض سے اس طرح سمٹ جاتا کہ یہ کہا جاتا کہ اگر ان پر کوئی کپڑا پھیلا دیا جاتا تو سب کو ڈھانپ لیتا ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ شیطان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایک دوسرے سے جدا رہو تا کہ تمہارا دشمن تم پر بہ آسانی حملہ کر سکے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2628
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3914), الوليد بن مسلم صرح بالسماع المسلسل عند ابن حبان (1664)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11871)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ السیر (8856)، مسند احمد (4/193) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2629
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا ، فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ " أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس جھنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کر دیا اور راستے مسدود کر دیئے ۱؎ تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کر دیں ، یا راستہ مسدود کر دیا تو اس کا جہاد نہیں ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی بلا ضرورت زیادہ جگہیں گھیر کر بیٹھ گئے اور دوسروں پر راستہ تنگ کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2629
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3920), إسماعيل بن عياش صرح بالسماع عند أبي يعلٰي الموصلي (1483)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11303)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/441) (حسن) »
حدیث نمبر: 2630
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2630
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (2629)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11303) (حسن) »