کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے۔
حدیث نمبر: 2619
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا ، فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِلَّا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے ، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے ، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے ، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے ، لیکن ساتھ نہ لے جائے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حکم اس پریشان حال اور مضطر و مجبور مسافر کے لئے ہے جسے کھانا نہ ملنے کی صورت میں اپنی جان کے ہلاک ہونے کا خطرہ لاحق ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2619
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1296), قتادة : عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 96
تخریج حدیث « سنن الترمذی/البیوع 60 (1296)، (تحفة الأشراف: 4591) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2620
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : أَصَابَتْنِي سَنَةٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ، فَفَرَكْتُ سُنْبُلًا فَأَكَلْتُ ، وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ : مَا عَلَّمْتَ إِذْ كَانَ جَاهِلًا ، وَلَا أَطْعَمْتَ إِذْ كَانَ جَائِعًا ، أَوْ قَالَ : سَاغِبًا وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں ، انہیں مل کر کھایا ، اور ( باقی ) اپنے کپڑے میں باندھ لیا ، اتنے میں اس کا مالک آ گیا ، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور آپ سے سارا ماجرا بتایا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا : ” تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور ایک وسق ( ساٹھ صاع ) یا نصف وسق ( تیس صاع ) غلہ مجھے دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2620
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه ابن ماجه (2298 وسنده صحيح) ورواه النسائي (5411 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/آداب القضاة 20 (5411)، سنن ابن ماجہ/التجارات 67 (2298)، (تحفة الأشراف: 5061)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/166) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ رَجُلًا مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبشر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عباد بن شرحبیل سے جو ہمیں میں سے قبیلہ بنو غبر کے ایک فرد تھے اسی مفہوم کی حدیث سنی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2621
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه ابن ماجه (2298 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (2620)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5061) (صحیح) »