کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قرآن کریم کے ساتھ دشمن کی سر زمین میں جانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2610
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ " ، قَالَ مَالِكٌ : أُرَاهُ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے ، مالک کہتے ہیں : میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پا لے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اور اس کی بے حرمتی کرے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2610
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق دون , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2990) صحيح مسلم (1869)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجھاد 129 (2990)، (ولیس عندہ قول مالک)، صحیح مسلم/الإمارة 24 (1869)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 45 (2879)، (تحفة الأشراف: 8347)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد 2 (7)، مسند احمد (2/6، 7، 10، 55، 63، 76، 128) (صحیح) » (صحیح مسلم میں آخری ٹکڑا اصلِ حدیث میں سے ہے نہ کہ قولِ مالک سے)