کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ساتھ سفر کرنے والے کسی کو اپنا امیر بنا لیں۔
حدیث نمبر: 2608
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ہوئے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن عجلان عنعن, وانظر الحديث الآتي (2609), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4429) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 2609
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ " ، قَالَ نَافِعٌ : فَقُلْنَا لِأَبِي سَلَمَةَ : فَأَنْتَ أَمِيرُنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں ۱؎ “ ، نافع کہتے ہیں : تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا : آپ ہمارے امیر ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا تا کہ ان میں آپس میں اجتماعیت برقرار رہے اور اختلاف کی نوبت نہ آئے اور ایسا جبھی ممکن ہے جب وہ کسی امیر کے تابع ہوں گے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2609
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (2608) لعلته وللحديث طرق ضعيفة, وأخرج الطبراني (الكبير 208/9 ح 8915) بإسناد حسن عن ابن مسعود قال : ’’ إذا كنتم ثلاثة في سفر فأمروا عليكم أحد كم ‘‘ إلخ, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15349) (حسن صحیح) »