کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سواری پر چڑھتے وقت سوار کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 2602
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ { 13 } وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ { 14 } سورة الزخرف آية 13-14 ، ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ ؟ قَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا ، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں ، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بسم الله» کہا ، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو «الحمد الله» کہا ، اور «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون» کہا ، پھر تین مرتبہ «الحمد الله» کہا ، پھر تین مرتبہ «الله اكبر» کہا ، پھر «سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» کہا ، پھر ہنسے ، پوچھا گیا : امیر المؤمنین ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا جیسے کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے تو میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے : میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2602
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (2434), أبو إسحاق السبيعي صرح بالسماع عند البيھقي (5/252)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 47 (3446)، (تحفة الأشراف: 10248)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری / (8799)، الیوم واللیلة (502)، مسند احمد (1/97، 115، 128) (صحیح لغیرہ) (ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود 7/354) »