حدیث نمبر: 2581
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ جَمِيعًا ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ ، زَادَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ فِي الرِّهَانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «جلب» اور «جنب» نہیں ہے “ ۔ یحییٰ نے اپنی حدیث میں «في الرهان» ( گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں ) کا اضافہ کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2582
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : الْجَلَبُ وَالْجَنَبُ فِي الرِّهَانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا` «جلب» اور «جنب» ۱؎ گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں ہوتا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: گھوڑ دوڑ میں «جلب» یہ ہے کہ کسی کو اپنے گھوڑے کے پیچھے لگا لے کہ وہ گھوڑے کو ڈانٹتا رہے، تاکہ وہ آگے بڑھ جائے، اور «جنب» یہ ہے کہ اپنے گھوڑے کے پہلو میں ایک اور گھوڑا رکھے کہ جب سواری کا گھوڑا تھک جائے تو اس گھوڑے پر سوار ہو جائے، اور زکاۃ میں «جلب» یہ ہے کہ زکاۃ لینے والا دور اترے اور زکاۃ دینے والے سے کہے کہ وہ اپنے مویشی میرے پاس لے آئیں، اور «جنب» یہ ہے کہ دینے والے اپنی اصل جگہ سے مویشیوں کو دور لے کر چلے جائیں اور محصل سے یہ کہیں کہ وہ یہاں آ کر زکاۃ لے، یہ دونوں چیزیں منع ہیں۔