حدیث نمبر: 2567
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا ظُهُورَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ فَإِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ وَجَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوا حَاجَتَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے جانوروں کی پیٹھ کو منبر بنانے سے بچو ، کیونکہ اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچائیں جہاں تم بڑی تکلیف اور مشقت سے پہنچ سکتے ہو ، اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے ، تو اسی پر اپنی ضروریات کی تکمیل کیا کرو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: سواری پر بلا ضرورت بیٹھنا اور بیٹھ کر اسے مارنا پیٹنا اور تکلیف پہنچانا صحیح نہیں ہے، البتہ اگر یہ بیٹھنا کسی مقصد کے حصول کے لئے ہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجۃ الوداع کے موقع پر سواری پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا ثابت ہے۔