کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: تین آدمیوں کا ایک ہی جانور پر سوار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2566
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ يَعْنِي الْعِجْلِيَّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، اسْتُقْبِلَ بِنَا فَأَيُّنَا اسْتُقْبِلَ أَوَّلًا جَعَلَهُ أَمَامَهُ فَاسْتُقْبِلَ بِي فَحَمَلَنِي أَمَامَهُ ، ثُمَّ اسْتُقْبِلَ بِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ ، فَجَعَلَهُ خَلْفَهُ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ وَإِنَّا لَكَذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے ، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے ، چنانچہ ( ایک بار ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا ، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا ، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح ( سواری پر ) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2566
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2428)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/فضائل الصحابة 35 (2428)، سنن ابن ماجہ/الأدب 33 (3773)، (تحفة الأشراف: 5230)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان 36 (2707)، مسند احمد (1/203) (صحیح) »