کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جانوروں پر لعنت بھیجنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2561
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَسَمِعَ لَعْنَةً فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ قَالُوا : هَذِهِ فُلَانَةُ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَعُوا عَنْهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ ، فَوَضَعُوا عَنْهَا ، قَالَ عِمْرَانُ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةٌ وَرْقَاءُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا : ” یہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے ۱؎ “ ، لوگوں نے اس پر سے ( کجاوہ ) اتار لیا ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں ، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی ۔
وضاحت:
۱؎: علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس لئے کیا تاکہ جانور کا مالک آئندہ کسی جانور پر لعنت نہ بھیجے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس مالک کے لئے بطور سرزنش تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2561
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2595)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/البر 24 (2595)، (تحفة الأشراف: 10883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/429، 431)، سنن الدارمی/الاستئذان 45 (2719) (صحیح) »