کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: گھوڑوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے اور ان کے پٹھوں پر ہاتھ پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2553
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا ، أَوْ قَالَ أَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا ، وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے` انہیں ( اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ) صحبت حاصل تھی - وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھوڑوں کو سرحد کی حفاظت کے لیے تیار کرو ، اور ان کی پیشانیوں اور پٹھوں پر ہاتھ پھیرا کرو ، اور ان کی گردنوں میں قلادہ ( پٹہ ) پہناؤ ، اور انہیں ( نظر بد سے بچنے کے لیے ) تانت کا قلادہ نہ پہنانا “ ۔
وضاحت:
۱؎: گھوڑے کو تیار کرنے سے یہ کنایہ ہے کہ ان کو جہاد کے لئے فربہ کرنا، اور ہاتھ پھیرنے سے مقصود ان کے جسم کو گردوغبار سے صاف کرنا اور ان کی فربہی معلوم کرنا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں گھوڑے کی گردنوں میں کمان کے چلے باندھتے تھے تاکہ نظر بد نہ لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کے لئے اس سے منع فرمایا کہ اس سے گھوڑے کا گلا نہ گھٹ جائے، نیز یہ عمل تقدیر کو رد نہیں کر سکتا۔