کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: گھوڑوں کے پسندیدہ رنگوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2543
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو وہب جشمی سے روایت ہے` اور انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے اوپر ہر چتکبرے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا کالے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے کو لازم پکڑو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2543
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (3595), عقيل بن شبيب مجهول (تق : 4660), ولبعض الحديث شاهد حسن عند الترمذي (1696،1697) و ابن ماجه (2789), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93
تخریج حدیث « سنن النسائی/الخیل 2 (3595)، و یأتي برقم (2553)، (تحفة الأشراف: 15519)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/345) (حسن) » ( اس میں عقیل مجہول راوی ہیں صرف ابن حبان نے توثیق کی ہے اور حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، لیکن جابر کی حدیث سے جو مسند احمد (3؍352) میں ہے یہ حدیث حسن کے درجہ میں ہے ) ملاحظہ ہو :صحیح ابی داود (7؍306)
حدیث نمبر: 2544
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِكُلِّ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ كُمَيْتٍ أَغَرَّ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ سَأَلْتُهُ : لِمَ فُضِّلَ الْأَشْقَرُ ؟ قَالَ : لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبُ أَشْقَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے اوپر ہر سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا ہر چتکبرے سفید پیشانی کے گھوڑے لازم پکڑو ۱؎ “ ، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا ۔ محمد یعنی ابن مہاجر کہتے ہیں : میں نے عقیل سے پوچھا : سرخ رنگ کے گھوڑے کی فضیلت کیوں ہے ؟ انہوں نے کہا : اس وجہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تو سب سے پہلے جو شخص فتح کی بشارت لے کر آیا وہ سرخ گھوڑے پر سوار تھا ۔
وضاحت:
۱؎: «أشقر» سرخ گھوڑے کو کہتے ہیں، اور اس کی دم بھی سرخ ہوتی ہے، اور «كميت» کی دم اور بال سیاہ ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2544
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (2543), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15519) (حسن) »
حدیث نمبر: 2545
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھوڑے کی برکت سرخ رنگ کے گھوڑے میں ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان میں توالد و تناسل زیادہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2545
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3879)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الجھاد 20 (1695)، (تحفة الأشراف: 6290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/272) (حسن) »