حدیث نمبر: 2542
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ . ح وَحَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ جَمِيعًا ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ نَصْرٍ الْكِنَانِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، وَقَالَ أَبُو تَوْبَةَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ وَهَذَا لَفْظُهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَقُصُّوا نَوَاصِي الْخَيْلِ وَلَا مَعَارِفَهَا وَلَا أَذْنَابَهَا فَإِنَّ أَذْنَابَهَا مَذَابُّهَا وَمَعَارِفَهَا دِفَاؤُهَا وَنَوَاصِيَهَا مَعْقُودٌ فِيهَا الْخَيْرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” گھوڑوں کی پیشانی کے بال نہ کاٹو ، اور نہ ایال یعنی گردن کے بال کاٹو ، اور نہ دم کے بال کاٹو ، اس لیے کہ ان کے دم ان کے لیے مورچھل ہیں ، اور ان کے ایال ( گردن کے بال ) گرمی حاصل کرنے کے لیے ہیں اور ان کی پیشانی میں خیر بندھا ہوا ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس کے رہنے میں برکت ہے، بہتری ہے اور زینت بھی ہے۔