کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2532
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي نُشْبَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مِنْ أَصْلِ الْإِيمَانِ ، الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا تُكَفِّرُهُ بِذَنْبٍ وَلَا تُخْرِجُهُ مِنَ الْإِسْلَامِ بِعَمَلٍ ، وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِي اللَّهُ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ ، لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ وَالْإِيمَانُ بِالْأَقْدَار " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین باتیں ایمان کی اصل ہیں : ۱- جو لا الہٰ الا اللہ کہے اس ( کے قتل اور ایذاء ) سے رک جانا ، اور کسی گناہ کے سبب اس کی تکفیر نہ کرنا ، نہ اس کے کسی عمل سے اسلام سے اسے خارج کرنا ۔ ۲- جہاد جاری رہے گا جس دن سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا ، کسی بھی ظالم کا ظلم ، یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کر سکتا ۔ ۳- تقدیر پر ایمان لانا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2532
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يزيد بن أبي نشبة مجهول (تق : 7785), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1704) (ضعیف) » (اس کے راوی یزید بن ابی نشبہ مجہول ہیں)
حدیث نمبر: 2533
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا ، وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا ، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا ، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو ، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد ، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرئے ، اور نماز ( جنازہ ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال الترمذي (3201) : ’’ ليس إسناده بمتصل،مكحول لم يسمع من أبي هريرة ‘‘ و تقدم طرفه (594), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14619) (ضعیف) » (مکحول کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے)