حدیث نمبر: 2523
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا يَزَالُ يُرَى عَلَى قَبْرِهِ نُورٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتی ہے ۔
حدیث نمبر: 2524
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا ، وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قُلْتُمْ فَقُلْنَا : دَعَوْنَا لَهُ ، وَقُلْنَا : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَصَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ ؟ " شَكَّ شُعْبَةُ فِي صَوْمِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ إِنَّ بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرایا ، ان میں سے ایک شہید کر دیا گیا اور دوسرے کا اس کے ایک ہفتہ کے بعد ، یا اس کے لگ بھگ انتقال ہوا ، ہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے کیا کہا ؟ “ ہم نے جواب دیا : ہم نے اس کے حق میں دعا کی کہ : اللہ اسے بخش دے اور اس کو اس کے ساتھی سے ملا دے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی نمازیں کہاں گئیں ، جو اس نے اپنے ساتھی کے ( قتل ہونے کے ) بعد پڑھیں ، اس کے روزے کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد رکھے ، اس کے اعمال کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد کئے ؟ ان دونوں کے درجوں میں ایسے ہی فرق ہے جیسے آسمان و زمین میں فرق ہے ۱؎ “ شعبہ کو «صومه بعد صومه» اور «عمله بعد عمله» میں شک ہوا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہو گئی ہو کہ بغیر شہادت کے ہی اس کا عمل اس کے اخلاص اور خشوع و خضوع کی زیادتی کے سبب شہید کے عمل کے برابر ہے، پھر اسے جو مزید عمل کا موقع ملا تو اس کی وجہ سے اس کا ثواب اس شہید کے ثواب سے فزوں ہو گیا کتنے شہداء ایسے ہیں جو صدیقین کے مقام و مرتبہ کو نہیں پاتے۔