کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: اللہ کا کلمہ (یعنی دین) کو بلند کرنے کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2517
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ ، وَيُقَاتِلُ لِيُحْمَدَ ، وَيُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ ، وَيُقَاتِلُ لِيُرِيَ مَكَانَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَاتَلَ حَتَّى تَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ أَعْلَى ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : کوئی شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے کوئی جہاد کرتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے ، کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ مال غنیمت پائے اور کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ اس مرتبہ کا اظہار ہو سکے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے صرف اس لیے جہاد کیا تاکہ اللہ کا کلمہ سربلند رہے تو وہی اصل مجاہد ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2517
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2810) صحيح مسلم (1904)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/العلم 45 (123)، الجھاد 15 (2810)، الخمس 10 (3126)، التوحید 28 (7458)، صحیح مسلم/الإمارة 42 (1904)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد 16 (1646)، سنن النسائی/الجھاد 21 (3138)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 13 (2783)، (تحفة الأشراف: 8999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/392، 397، 402، 405، 417) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2518
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ أَبِي وَائِلٍ حَدِيثًا أَعْجَبَنِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو کہتے ہیں کہ` میں نے اپنے والد وائل سے ایک حدیث سنی جو مجھے پسند آئی ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2518
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8999) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2519
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْجِهَادِ وَالْغَزْوِ ، فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللَّهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا ، وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا بَعَثَكَ اللَّهُ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا ، يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عَلَى أَيِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ بَعَثَكَ اللَّهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عبداللہ بن عمرو ! اگر تم صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں صابر اور محتسب ( ثواب کی نیت رکھنے والا ) بنا کر اٹھائے گا ، اور اگر تم ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لیے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا ، اے عبداللہ بن عمرو ! تم جس حال میں بھی لڑو یا شہید ہو اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2519
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3847)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8619) (ضعیف) » (اس کے راوة العلا اور حنان دونوں لین الحدیث ہیں)