کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دنیا طلبی کی خاطر جہاد کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2515
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بَحِيرٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ ، فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ ، وَأَمَّا مَنِ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد دو طرح کے ہیں : رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا مندی چاہی ، امام کی اطاعت کی ، اچھے سے اچھا مال خرچ کیا ، ساتھی کے ساتھ نرمی اور محبت کی ، اور جھگڑے فساد سے دور رہا تو اس کا سونا اور اس کا جاگنا سب باعث اجر ہے ، اور جس نے اپنی بڑائی کے اظہار ، دکھاوے اور شہرت طلبی کے لیے جہاد کیا ، امام کی نافرمانی کی ، اور زمین میں فساد مچایا تو ( اسے ثواب کیا ملنا ) وہ تو برابر برابر بھی نہیں لوٹا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ایسے جہاد میں اگر گناہ سے بچ جائے تو یہی غنیمت ہے، ثواب کا کیا ذکر۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2515
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3846), أخرجه النسائي (4200) رواية بقية عن بحير صحيحة
تخریج حدیث « سنن النسائی/الجھاد 46 (310)، والبیعة 29 (4200)، (تحفة الأشراف: 11329)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد 18 (43) موقوفاً، مسند احمد (5/234)، سنن الدارمی/ الجھاد 25 (2461) (حسن) »
حدیث نمبر: 2516
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ ابْنِ مِكْرَزٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " " لَا أَجْرَ لَهُ ، فَأَعْظَمَ ذَلِكَ النَّاسُ وَقَالُوا لِلرَّجُلِ : عُدْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّكَ لَمْ تُفَهِّمْهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا ، فَقَالَ : لَا أَجْرَ لَهُ ، فَقَالُوا لِلرَّجُلِ : عُدْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ لَهُ : لَا أَجْرَ لَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و منال چاہتا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں “ ، لوگوں نے اسے بڑی بات سمجھی اور اس شخص سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر پوچھو ، شاید تم انہیں نہ سمجھا سکے ہو ، اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و اسباب چاہتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں “ ، لوگوں نے اس شخص سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر پوچھو ، اس نے آپ سے تیسری بار پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے فرمایا : ” اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2516
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3845)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15484)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/290، 366) (حسن) »