حدیث نمبر: 2472
حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد النفيلي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ ، فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ وَلَا يُعَرِّجُ يَسْأَلُ عَنْهُ " ، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى : قَالَتْ : إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے ۔
حدیث نمبر: 2473
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : غَيْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، لَا يَقُولُ فِيهِ : قَالَتْ : السُّنَّةُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : جَعَلَهُ قَوْلَ عَائِشَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے ، نہ جنازے میں شریک ہو ، نہ عورت کو چھوئے ، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے ، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو ، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں ، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں «قالت السنة» کا لفظ نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2474
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً أَوْ يَوْمًا عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اعْتَكِفْ وَصُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : ” اعتکاف کرو اور روزہ رکھو “ ۔
حدیث نمبر: 2475
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ قَالَ : سَبْيُ هَوَازِنَ ، أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عبداللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے ، اس میں ہے اسی دوران کہ` وہ ( عمر رضی اللہ عنہ ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے ” الله أكبر “ کہا ، تو پوچھا : عبداللہ ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا ہے ، کہا : یہ لونڈی بھی ( تو انہیں میں سے ہے ) ۱؎ چنانچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کر دیا ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ سے جب یہ سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے تو اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ لونڈی جو میرے پاس ہے وہ بھی تو انہیں قیدیوں میں سے ہے پھر تم اسے کیسے روکے ہوئے ہو۔