کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2451
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ : الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْجُمْعَةِ الْأُخْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہینے میں تین دن روزے رکھتے تھے یعنی ( پہلے ہفتہ کے ) دوشنبہ ، جمعرات اور دوسرے ہفتے کے دوشنبہ کو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2451
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (2368 وسنده حسن) سواء الخزاعي وثقه ابن حبان وابن خزيمة بتصحيح حديثه فھو حسن الحديث
تخریج حدیث « سنن النسائی/الصیام 41 (2368)، (تحفة الأشراف: 15796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/287، 288)، وانظر ما تقدم برقم : (2437) (حسن) »
حدیث نمبر: 2452
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ ، فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہنیدہ خزاعی اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ` میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان سے روزے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے ، ان میں سے پہلا دوشنبہ کا ہوتا اور جمعرات کا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: نسائی میں اس روایت کے الفاظ ہیں، «أَوَّلُ خَمِيْسٍ‘‘ ’’وَالاثْنَيْنِ وَالاثْنَيْنِ» یعنی: مہینے کا پہلا جمعرات اور دوشنبہ، پھر دوسرا دوشنبہ، بعض روایتوں میں تیسرا دن جمعرات ہے (حدیث نمبر: ۲۴۳۷) بعض روایتوں میں درمیان ماہ کے تین دنوں کا تذکرہ ہے، اور اگلی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی خاص دن متعین نہیں تھا، بس تین دن کا روزہ مقصود تھا، سب مختلف اوقات وحالات کے لحاظ سے تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2060), أخرجه النسائي (2421 وسنده صحيح) ھنيدة بن خالد وأمه صحابيان
تخریج حدیث « سنن النسائی/الصیام 51 (2421)، (تحفة الأشراف: 18297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/289، 310) (منکر) »