کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عاشوراء کے روزے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّ أَسْلَمَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " صُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَاقْضُوهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ` قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ نے پوچھا : ” کیا تم لوگوں نے اپنے اس دن کا روزہ رکھا ہے ؟ “ جواب دیا : نہیں ، فرمایا : ” دن کا بقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور روزے کی قضاء کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی عاشوراء کے دن ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد الرحمٰن بن مسلمة مجهول, انظر التحرير (3884) لم يوثقه غير ابن حبان, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 90
تخریج حدیث « سنن النسائی/ الصیام 36 (2320) (تحفة الأشراف: 15628)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/29، 367، 409) (ضعیف) » (اس کے راوی عبد الرحمن لین الحدیث ہیں)