کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2415
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي صُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَقُمْتُهُ كُلَّهُ " . فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ ، أَوْ قَالَ : لَا بُدَّ مِنْ نَوْمَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے ، اور پورے رمضان کا قیام کیا “ ۔ راوی حدیث کہتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ممانعت خود اپنے آپ کو پاکباز و عبادت گزار ظاہر کرنے کی ممانعت کی بنا پر تھی ، یا اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہو گا ( اس طرح یہ غلط بیانی ہو جائے گی ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2415
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (2111), الحسن البصري عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 90
تخریج حدیث « سنن النسائی/الصیام 4 (2111)، (تحفة الأشراف: 11664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/40، 41، 48، 52) (ضعیف) » (اس کے راوی حسن بصری مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)