کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کتنی دور کے سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 2413
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ ، " أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ دِمَشْقَ مَرَّةً إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ مِنْ الْفُسْطَاطِ وَذَلِكَ ثَلَاثَةُ أَمْيَالٍ فِي رَمَضَانَ . ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ نَاسٌ ، وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا . فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَرَاهُ ، إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ " . يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا . ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ : اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´منصور کلبی سے روایت ہے کہ` دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ ایک بار رمضان میں دمشق کی کسی بستی سے اتنی دور نکلے جتنی دور فسطاط سے عقبہ بستی ہے اور وہ تین میل ہے ، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کے کچھ لوگوں نے تو روزہ توڑ دیا لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے روزہ توڑنے کو ناپسند کیا ، جب وہ اپنی بستی میں لوٹ کر آئے تو کہنے لگے : اللہ کی قسم ! آج میں نے ایسا منظر دیکھا جس کا میں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا ، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقے سے اعراض کیا ، یہ بات وہ ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے ، جنہوں نے سفر میں روزہ رکھا تھا ، پھر انہوں نے اسی وقت دعا کی : اے اللہ ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے ( یعنی اس پر آشوب دور میں زندہ رہنے سے موت اچھی ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2413
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, رواه ابن خزيمة (2041 وسنده حسن) منصور الكلبي وثقه العجلي المعتدل وابن حبان فھو صدوق حسن الحديث
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3537)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/398) (ضعیف) » (اس کے راوی منصور کلبی مجہول ہیں)
حدیث نمبر: 2414
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ " يَخْرُجُ إِلَى الْغَابَةِ فَلَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْصِرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما غابہ ۱؎ جاتے تو نہ تو روزہ توڑتے ، اور نہ ہی نماز قصر کرتے ۔
وضاحت:
۱؎: غابہ ایک جگہ ہے جو مدینہ سے تھوڑی دور کے فاصلہ پر شام کے راستے میں پڑتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2414
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ؟؟؟) (صحیح موقوف) »