کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا فِي النَّذْرِ ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2400
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1952) صحيح مسلم (1147)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصوم 42(1952)، صحیح مسلم/الصیام 27 (1147)، (تحفة الأشراف: 16382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/69)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان (3311) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِذَا مَرِضَ الرَّجُلُ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ مَاتَ وَلَمْ يَصُمْ أُطْعِمَ عَنْهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ قَضَاءٌ ، وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ قَضَى عَنْهُ وَلِيُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب آدمی رمضان میں بیمار ہو جائے پھر مر جائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی جانب سے کھانا کھلایا جائے گا اور اس پر قضاء نہیں ہو گی اور اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی اس کی جانب سے پورا کرے گا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2401
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الثوري عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (صحیح) »