کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سورج ڈوبنے سے پہلے افطار کر لے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2359
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : أَفْطَرْنَا يَوْمًا فِي رَمَضَانَ فِي غَيْمٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : قُلْتُ لِهِشَامٍ : " أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ ؟ قَالَ : وَبُدٌّ مِنْ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ماہ رمضان میں ایک دن ہم نے بدلی میں روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نمودار ہو گیا ۔ راوی ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن عروہ سے سوال کیا کہ پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا ؟ کہنے لگے : کیا اس کے بغیر بھی چارہ ہے ؟ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2359
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1959)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصوم 46 (1959)، سنن ابن ماجہ/الصیام 15 (1674)، (تحفة الأشراف: 15749)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/346) (صحیح) »