کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: روزہ افطار کرنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2351
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ :عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَذَهَبَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا ، زَادَ مُسَدَّدٌ : وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہو گیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2351
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1954) صحيح مسلم (1100)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصوم 43(1954)، صحیح مسلم/الصیام10 (1100)، سنن الترمذی/الصوم 12 (698)، (تحفة الأشراف: 1074)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/28، 35، 48)، سنن الدارمی/الصوم 11 (1742) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2352
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ : " سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ : " يَا بِلَالُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمْسَيْتَ ؟ قَالَ : " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا ، قَالَ : " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " ، فَنَزَلَ فَجَدَحَ ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے ، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال ! ( سواری سے ) اترو ، اور ہمارے لیے ستو گھولو “ ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر اور شام ہو جانے دیں تو بہتر ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اترو ، اور ہمارے لیے ستو گھولو “ ، بلال رضی اللہ عنہ نے پھر کہا : اللہ کے رسول ! ابھی تو دن ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اترو ، اور ہمارے لیے ستو گھولو “ ، چنانچہ وہ اترے اور ستو گھولا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا پھر فرمایا : ” جب تم دیکھ لو کہ رات ادھر سے آ گئی تو روزے کے افطار کا وقت ہو گیا “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2352
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1955) صحيح مسلم (1101)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصوم 33 (1941)، 43 (1955)، 45 (1958)، والطلاق 22 (5297)، صحیح مسلم/الصیام 11(1101)، (تحفة الأشراف: 5163)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/380، 382) (صحیح) »