کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: انتیس تاریخ کو بادل ہوں تو پورے تیس روزے رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2327
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُقَدِّمُوا الشَّهْرَ بِصِيَامِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ ، وَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَمَامَةٌ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا ، وَالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ وَ شُعْبَةُ وَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، بِمَعْنَاهُ ، لَمْ يَقُولُوا : " ثُمَّ أَفْطِرُوا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ حَاتِمُ بْنُ مُسْلِمٍ ابْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، وَ أَبُو صَغِيرَةَ زَوْجُ أُمِّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان سے ایک یا دو دن پہلے ہی روزے رکھنے شروع نہ کر دو ، ہاں اگر کسی کا کوئی معمول ہو تو رکھ سکتا ہے ، اور بغیر چاند دیکھے روزے نہ رکھو ، پھر روزے رکھتے جاؤ ، ( جب تک کہ شوال کا ) چاند نہ دیکھ لو ، اگر اس کے درمیان بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو اس کے بعد ہی روزے رکھنا چھوڑو ، اور مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حاتم بن ابی صغیرہ ، شعبہ اور حسن بن صالح نے سماک سے پہلی حدیث کے مفہوم کے ہم معنی روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «فأتموا العدة ثلاثين» کے بعد «ثم أفطروا» نہیں کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2327
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سلسلة سماك عن عكرمة ضعيفة, ورواه الترمذي (684،وقال: حسن صحيح) وسنده حسن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 186
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصوم 5 (688)، سنن النسائی/الصیام 7 (2131)، (تحفة الأشراف: 6105)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 1(3)، مسند احمد (1/221، 226، 258)، سنن الدارمی/الصوم 1 (1725) (صحیح) »