حدیث نمبر: 2324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ، قَالَ : " وَفِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ ، وَكُلُّ جَمْعٍ مَوْقِفٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی ، اس میں ہے : ” تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم افطار کرتے ہو ۱؎ اور عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرتے ہو ، پورا کا پورا میدان عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا میدان منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے نیز مکہ کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں ، اور سارا مزدلفہ وقوف ( ٹھہرنے ) کی جگہ ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: اسی جملے کی باب سے مطابقت ہے، مطلب یہ ہے کہ: جب سارے کے سارے لوگ تلاش و جستجو اور اجتہاد کے بعد کسی دن چاند کا فیصلہ کر لیں اور اسی حساب سے روزہ اور افطار اور قربانی کر لیں اور بعد میں چاند دوسرے دن کا ثابت ہوجائے تو یہ اجتماعی غلطی معاف ہے۔