کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2319
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . وَخَنَسَ سُلَيْمَانُ أُصْبُعَهُ فِي الثَّالِثَةِ يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم ان پڑھ لوگ ہیں نہ ہم لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب و کتاب ، مہینہ ایسا ، ایسا اور ایسا ہوتا ہے ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے بتایا ) “ ، راوی حدیث سلیمان نے تیسری بار میں اپنی انگلی بند کر لی ، یعنی مہینہ انتیس اور تیس دن کا ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2319
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1913) صحيح مسلم (108)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصوم 13(1913)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، سنن النسائی/الصیام 8 (2142)، (تحفة الأشراف: 7075)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1654)، مسند احمد (2/122) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2320
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ " . قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا كَانَ شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نُظِرَ لَهُ ، فَإِنْ رُؤِيَ فَذَاكَ ، وَإِنْ لَمْ يُرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ وَلَا قَتَرَةٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا ، فَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ أَصْبَحَ صَائِمًا ، قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلَا يَأْخُذُ بِهَذَا الْحِسَابِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ انتیس دن کا ( بھی ) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھو ، اور نہ ہی دیکھے بغیر روزے چھوڑو ، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو “ ۔ راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے اگر نظر آ جاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہو جاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے ۔ راوی کا یہ بھی بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنا چھوڑتے تھے ، اور اپنے حساب کا خیال نہیں کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2320
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح قد دون قوله فكان ابن عمر , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1080)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصوم 2(1080)،(تحفة الأشراف: 7536، 19146)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/5) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2321
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ بَلَغَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، زَادَ : " وَإِنَّ أَحْسَنَ مَا يُقْدَرُ لَهُ أَنَّا إِذَا رَأَيْنَا هِلَالَ شَعْبَانَ لِكَذَا وَكَذَا ، فَالصَّوْمُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لِكَذَا وَكَذَا ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایوب کہتے ہیں : عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ والوں کو لکھا کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلوم ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ، آگے اسی طرح ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اوپر والی مرفوع حدیث میں ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : ” اچھا اندازہ یہ ہے کہ جب ہم شعبان کا چاند فلاں فلاں روز دیکھیں تو روزہ ان شاءاللہ فلاں فلاں دن کا ہو گا ، ہاں اگر چاند اس سے پہلے ہی دیکھ لیں ( تو چاند دیکھنے ہی سے روزہ رکھیں ) “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2321
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحديث مرسل ولم يخبر الإمام عمر بن عبد العزيز ممن بلغه به, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7536 و 19146) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2322
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " لَمَا صُمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا مَعَهُ ثَلَاثِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2322
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (689 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصوم 6 (689)، (تحفة الأشراف: 9478)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/441، 397، 405، 408، 441، 450) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2323
حَدَّثَنَا  مُسَدَّدٌ  ، أَنَّ  يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ  حَدَّثَهُمْ ، حَدَّثَنَا  خَالِدٌ الْحَذَّاءُ  ، عَنْ  عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ  ، عَنْ  أَبِيهِ  ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ : رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں` آپ نے فرمایا : ” عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں ایک ہی سال میں انتیس انتیس دن کے نہیں ہوتے، ایک اگر انتیس ہے تو دوسرا تیس کا ہو گا، ایک مفہوم یہ بتایا جاتا ہے کہ ثواب کے اعتبار سے کم نہیں ہوتے اگر انتیس دن کے ہوں تب بھی پورے مہینے کا ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2323
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1912) صحيح مسلم (1089)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصوم 12(1912)، صحیح مسلم/الصوم 7 (1089)، سنن الترمذی/الصوم 8 (692)، سنن ابن ماجہ/الصیام 9 (1659)، (تحفة الأشراف: 11677)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/38، 47، 50) (صحیح) »