مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: زنا بہت بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 2310
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ " ، قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 الْآيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ ) تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے “ ، میں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے بچے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا “ ، میں نے کہا پھر اس کے بعد ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو “ ، نیز کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی تصدیق کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون الخ ( سورۃ الفرقان : ۶۸ ) ” جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتے اور ناحق اس نفس کو قتل نہیں کرتے جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ زنا کرتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6001) صحيح مسلم (141)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/ تفسیر سورة البقرة 3 (4477)، والأدب 20 (4761)، والحدود 20 (6811)، والدیات 2 (6861)، والتوحید 40 (7520)، 46 (7532)، صحیح مسلم/الایمان 37 (86)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الفرقان (3182)، (تحفة الأشراف: 9480)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/380، 471، 424، 434، 462) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " جَاءَتْ مُسَيْكَةُ مِسْكِينَةٌ لِبَعْضِ الأَنْصَارِ ، فَقَالَتْ : إِنَّ سَيِّدِي يُكْرِهُنِي عَلَى الْبِغَاءِ ، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ : وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ سورة النور آية 33 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ` ایک انصاری شخص کی مسکینہ لونڈی آ کر کہنے لگی کہ میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے ، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء» ( سورۃ النور : ۳۳ ) ” تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2833) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2312
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33 ، قَالَ : قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ : " غَفُورٌ لَهُنَّ الْمُكْرَهَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سیلمان تیمی سے روایت ہے کہ` آیت کریمہ : «ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم» ( النور : ۳۳ ) ” اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ مجبور کرنے کی صورت میں بخشنے ولا رحم کرنے والا ہے “ کے متعلق سعید بن ابوالحسن نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں زنا کے لیے مجبور کیا گیا ، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال يحيي بن معين : كان سليمان التيمي يدلس (تاريخ ابن معين : 3600) وتقدم (1488), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18689) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔