مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عدت میں نقل مکانی کو جائز کہنے والوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2301
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : "نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ ، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240 " . قَالَ عَطَاءٌ : " إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا ، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ ، لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ سورة البقرة آية 240 " ، قَالَ عَطَاءٌ : " ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` «غير إخراج» ( سورة البقرہ : ۲۴۰ ) والی آیت جس میں عورت کو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارنے کا حکم ہے منسوخ کر دی گئی ہے ، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے ، عطاء کہتے ہیں : اگر چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور شوہر کی وصیت سے فائدہ اٹھا کر وہیں سکونت اختیار کرے ، اور اگر چاہے تو اللہ کے فرمان «فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن» ” اگر وہ خود نکل جائیں تو ان کے کئے ہوئے کا تم پر کوئی گناہ نہیں “ کے مطابق نکل جائے ، عطاء کہتے ہیں کہ پھر جب میراث کا حکم آ گیا ، تو شوہر کے مکان میں رہائش کا حکم منسوخ ہو گیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2301
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5344، 4531)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/التفسیر 41 (4531)، الطلاق 50 (5344)، سنن النسائی/ الکبری/ الطلاق (5725)، (تحفة الأشراف: 5900) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔