مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2284
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَتَسَخَّطَتْهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهَا : " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ " ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي ، اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى ، تَضَعِينَ ثِيَابَكِ ، وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " ، قَالَتْ : فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَ أَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَبُو جَهْمٍ ، فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ ، فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " ، قَالَتْ : فَكَرِهْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " ، فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ` ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی ۱؎ ابوعمرو موجود نہیں تھے تو ان کے وکیل نے فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے ، اس پر وہ برہم ہوئیں ، تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا ، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ماجرا بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ سے فرمایا : ” اس کے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ایک ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے صحابہ کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے ، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں ، پردے کی دقت نہ ہو گی ، تم اپنے کپڑے اتار سکو گی ، اور جب عدت مکمل ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا “ ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب عدت گزر گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہما کے پیغام کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہے ابوجہم تو وہ کندھے سے لاٹھی ہی نہیں اتارتے ( یعنی بہت زدو کوب کرنے والے شخص ہیں ) اور جہاں تک معاویہ کا سوال ہے تو وہ کنگال ہیں ، ان کے پاس مال نہیں ہے ۲؎ ، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو “ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اسامہ بن زید سے نکاح کر لو ، چنانچہ میں نے اسامہ سے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اس قدر بھلائی رکھی کہ لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے ۔
وضاحت:
۱؎: بعض روایتوں میں ہے ’’انہیں تین طلاق دی‘‘ اور بعض میں ہے ’’انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق دی‘‘ اور بعض میں ہے ’’انہیں ایک طلاق بھیجی جو باقی رہ گئی تھی‘‘ ان روایات میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ وہ انہیں اس سے پہلے دو طلاق دے چکے تھے اور اس بار تیسری طلاق دی، تو جس نے یہ روایت کیا ہے کہ انہوں نے تین طلاق میں سے آخری طلاق دی یا وہ طلاق دی جو باقی رہ گئی تھی تو وہ اصل صورت حال کے مطابق ہے اور جس نے روایت کی ہے کہ طلاق بتہ دی تو اس کی مراد یہ ہے کہ ایسی طلاق دی جس سے وہ مبتوتہ ہو گی اور جس نے روایت کی ہے کہ تین طلاق دی تو اس کی مراد یہ ہے کہ تین میں جو کمی رہ گئی تھی اسے پورا کر دیا۔
۲؎: صلاح و مشورہ دینے میں کسی کا حقیقی اور واقعی عیب بیان کرنا درست ہے تاکہ مشورہ لینے والا دھوکہ نہ کھائے، یہ غیبت میں داخل نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2284
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1480)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن النسائی/النکاح 8 (3224)، الطلاق 73 (3582)، (تحفة الأشراف: 18038)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 37 (1135)، سنن ابن ماجہ/النکاح 10 (1869) الطلاق 4 (2024)، 9 (2032)، 10 (2035)، موطا امام مالک/الطلاق 23 (67)، مسند احمد (6/ 412، 413، 414 ، 415)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2223) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2285
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِيهِ . وَأَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَنَفَرًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا ، وَإِنَّهُ تَرَكَ لَهَا نَفَقَةً يَسِيرَةً ، فَقَالَ : " لَا نَفَقَةَ لَهَا " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ . وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ` ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ ابو حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ابو حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں ، اور اسے معمولی نفقہ ( خرچ ) دیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے نفقہ نہیں ہے “ ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ، یہ مالک کی روایت زیادہ کامل ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ تین طلاق دی ہوئی عورت کے لئے نہ نفقہ ہے، اور نہ سکنی (رہائش)، نفقہ و سکنی رجعی طلاق میں ہے، اس امید میں کہ شاید شوہر کے دل کے اندر رجوع کی بات پیدا ہو جائے، اور رجوع کر لے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2285
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8038) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2286
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو ،عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَخَبَرَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، قَال : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ وَلَا مَسْكَنٌ " ، قَالَ فِيهِ : وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ` مجھ سے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں ، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ والا قصہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” نہ تو اس کے لیے نفقہ ہے اور نہ رہائش “ ، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ خبر بھیجی کہ تو اپنے بارے میں مجھ سے سبقت نہ کرنا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مجھ سے پوچھے بغیر شادی نہ کر لینا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2286
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (2285)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : 2284، (تحفة الأشراف: 18038) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2287
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ ، قَالَ فِيهِ : " وَلَا تُفَوِّتِينِي بِنَفْسِكِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّعْبِيُّ وَ الْبَهِيُّ وَ عَطَاءٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَاصِمٍ وَ أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، كُلُّهُمْ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں قبیلہ بنی مخروم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی ، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے مثل حدیث بیان کی اس میں «ولا تفوتيني بنفسك» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے شعبی اور بہی نے اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور ابوبکر بن جہم اور سبھوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ” انہیں ان کے شوہر نے تین طلاق دی “ ( نہ کہ طلاق بتہ ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2287
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, انظر الحديث السابق (2284)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم (2284)، (تحفة الأشراف: 18038) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2288
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، " أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا ، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَقَةً وَلَا سُكْنَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو انہیں نفقہ دلایا ، اور نہ ہی رہائش دلائی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2288
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1480), انظر الحديث السابق (2284)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الطلاق 6(1480)، سنن الترمذی/الطلاق 5 (1180)، سنن النسائی/الطلاق 72 (3581)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 10 (2036)، (تحفة الأشراف: 18025)، وقد أخرجہ: دی/الطلاق 10 (3220) ویأتی ہذا الحدیث برقم (2291) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2289
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، " أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَأَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى ، فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا ، قَالَ عُرْوَةُ : وَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ . قَالَ أَبُو دَاوُد : شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَاسْمُ أَبِي حَمْزَةَ دِينَارٌ وَهُوَ مَوْلَى زِيَادٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ` وہ ابوحفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں ، اور ابوحفص نے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق بھی دے دی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے گھر نکلنے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جانے کا حکم دیا ۱؎ ۔ مروان نے یہ حدیث سنی تو مطلقہ کے گھر سے نکلنے کے سلسلہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ، عروہ کہتے ہیں : ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی بات کا انکار کیا ۔
وضاحت:
۱؎: مطلقہ کا عدت گزارنے کے لئے گھر سے نکل کر کسی اور جگہ رہنا درست نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی سخت ضرورت لاحق ہو جائے مثلا کرائے کا مکان ہو، اور کرایہ دینے کی طاقت نہ ہو، یا مکان گر پڑے، یا مالک مکان جبرا نکال دے، یا علاج و معالجہ کی ضرورت ہو، یا کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2289
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (2284)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم (2284)، (تحفة الأشراف: 18038) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2290
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى فَاطِمَةَ فَسَأَلَهَا ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي حَفْصٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَعْنِي عَلَى بَعْضِ الْيَمَنِ ، فَخَرَجَ مَعَهُ زَوْجُهَا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ لَهَا ، وَأَمَرَ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ أَنْ يُنْفِقَا عَلَيْهَا ، فَقَالَا : وَاللَّهِ مَا لَهَا نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا " ، وَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الِانْتِقَالِ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَقَالَتْ : أَيْنَ أَنْتَقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " ، وَكَانَ أَعْمَى ، تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلَا يُبْصِرُهَا ، فَلَمْ تَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى مَضَتْ عِدَّتُهَا فَأَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ ، فَرَجَعَ قَبِيصَةُ إِلَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : لَمْ نَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنَ امْرَأَةٍ ، فَسَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ حِينَ بَلَغَهَا ذَلِكَ : بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّه ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ حَتَّى لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا سورة الطلاق آية 1 ، قَالَتْ : فَأَيُّ أَمْرٍ يُحْدِثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَأَمَّا الزُّبَيْدِيُّ ، فَرَوَى الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا ، حَدِيثَ عُبَيْدِ اللهِ بمَعْنى مَعْمَرٍ ، وَحَدِيثَ أَبي سلَمَةَ بمَعْنى عَقِيلٍ . قال أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ مُحمَّدُ بنُ إِسْحاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ حَدَّثَهُ ، بِمَعْنًى دَلَّ عَلَى خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حِينَ قَالَ : فَرَجَعَ قَبِيصَةُ إِلَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ` مروان نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو بلوایا ، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا یعنی یمن کے بعض علاقے کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے شوہر بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے اور وہیں سے انہیں بقیہ ایک طلاق بھیج دی ، اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو انہیں نفقہ دینے کے لیے کہہ دیا تو وہ دونوں کہنے لگے : اللہ کی قسم حاملہ ہونے کی صورت ہی میں وہ نفقہ کی حقدار ہو سکتی ہیں ، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ( اور آپ سے دریافت کیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے نفقہ صرف اس صورت میں ہے کہ تم حاملہ ہو “ ، پھر فاطمہ نے گھر سے منتقل ہونے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ، پھر فاطمہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میں کہاں جاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر رہو ، وہ نابینا ہیں ، سو وہ ان کے پاس کپڑے بھی اتارتی تھیں تو وہ اسے دیکھ نہیں پاتے تھے “ ، چنانچہ وہ وہیں رہیں یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہو گئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ تو قبیصہ ۱؎ مروان کے پاس واپس آئے اور انہیں اس کی خبر دی تو مروان نے کہا : ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت کے منہ سے سنی ہے ہم تو اسی مضبوط اور صحیح بات کو اپنائیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوا تو کہنے لگیں : میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی ، اللہ کا فرمان ہے «فطلقوهن لعدتهن» ، «لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا» ۲؎ تک ” یعنی خاوند کا دل مائل ہو جائے اور رجوع کر لے “ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : تین طلاق کے بعد کیا نئی بات ہو گی ؟ ۳؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح اسے یونس نے زہری سے روایت کیا ہے ، رہے زبیدی تو انہوں نے دونوں حدیثوں کو ملا کر ایک ساتھ روایت کیا ہے یعنی عبیداللہ کی حدیث کو معمر کی حدیث کے ہم معنی اور ابوسلمہ کی حدیث کو عقیل کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے ۔ اور اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ قبیصہ بن ذویب نے ان سے اس معنی کی حدیث بیان کی ہے جس میں عبیداللہ بن عبداللہ کی حدیث پر دلالت ہے جس وقت انہوں نے یہ کہا کہ قبیصہ مروان کے پاس لوٹے اور انہیں اس واقعہ کی خبر دی ۔
وضاحت:
۱؎: جیسا کہ آگے اس کی تصریح آ رہی ہے۔
۲؎: انہیں ان کی عدت میں یعنی طہر کے شروع میں طلاق دو، اور مدت کا حساب رکھو، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ خود نکلیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے، اس نے یقینا اپنے اوپر ظلم کیا، تم نہیں جانتے، شاید اس کے بعد اللہ تعالی کوئی نئی بات پیدا کر دے۔
۳؎: اس سے معلوم ہوا کہ گھر سے نہ نکلنا یا نہ نکالنا صرف پہلی اور دوسری طلاق کے بعد ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2290
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1480)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن النسائی/النکاح 8 (3224)، الطلاق 73 (3582)، (تحفة الأشراف: 18031)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/414) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔