مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قیافہ جاننے والوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2267
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى ، وَابْنُ السَّرْحِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مُسَدَّدٌ وَ ابْنُ السَّرْحِ : يَوْمًا مَسْرُورًا ، وَقَالَ عُثْمَانُ : يُعْرَفُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " أَيْ عَائِشَةُ ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ رَأَى زَيْدًا وَ أُسَامَةَ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا بِقَطِيفَةٍ وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا ؟ " فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ( مسدد اور ابن سرح کی روایت میں ہے ) ایک دن خوش و خرم تشریف لائے ( اور عثمان کی روایت میں ہے آپ کے چہرے پر خوشی کی لکیریں ۱؎ محسوس کی جا رہی تھیں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! کیا تو نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو اس حال میں دیکھا کہ وہ دونوں اپنے سر چادر سے ڈھانکے ہوئے تھے اور پیر کھلے ہوئے تھے تو کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسامہ کالے تھے اور زید گورے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: خوشی کی وجہ یہ تھی کہ لوگ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے اسامہ رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں ایسی باتیں کہتے تھے جنہیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی تکلیف ہوتی تھی، زید گورے چٹے آدمی تھے اور اسامہ کا رنگ کالا تھا اس لئے لوگ شک کرتے تھے کہ اسامہ زید کے بیٹے ہیں یا کسی اور کے جب اس قیافہ شناس مجزز مدلجی نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ ان دونوں کے پیر ملتے جلتے ہیں تو آپ کو اس سے بے حد خوشی ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2267
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6771) صحيح مسلم (1459)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/المناقب 23 (3555)، وفضائل الصحابة 17 (3731)، والفرائض 31 (6770)، صحیح مسلم/الرضاع 11 (1459)، سنن الترمذی/الولاء 5 (2129)، سنن النسائی/الطلاق 51 (3523، 3524)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 21 (2349)، (تحفة الأشراف: 16433)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/82، 226) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2268
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ : قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَأَسَارِيرُ وَجْهِهِ ، لَمْ يَحْفَظْهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُد : أَسَارِيرُ وَجْهِهِ هُوَ تَدْلِيسٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ ، إِنَّمَا سَمِعَ الْأَسَارِيرَ مِنْ غَيْرِ الْزُهْرِيِّ . قَالَ : وَالْأَسَارِيرُ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَغَيْرِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ صَالِحٍ ، يَقُولُ : كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ شَدِيدَ السَّوَادِ مِثْلَ الْقَارِ ، وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ مِثْلَ الْقُطْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی زہری نے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے آپ کے چہرے کی لکیریں چمک رہی تھیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «أسارير وجهه» کے الفاظ کو ابن عیینہ یاد نہیں رکھ سکے ، ابوداؤد کہتے ہیں : «أسارير وجهه» ابن عیینہ کی جانب سے تدلیس ہے انہوں نے اسے زہری سے نہیں سنا ہے انہوں نے «أسارير وجهه» کے بجائے «لأسارير من غير» کے الفاظ سنے ہیں اور «أسارير» کا ذکر لیث وغیرہ کی حدیث میں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن صالح کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ تارکول کی طرح بہت زیادہ کالے تھے ۱؎ اور زید رضی اللہ عنہ روئی کی طرح سفید ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ ان کی والدہ جن کا نام برکۃ تھا اور کنیت ام ایمن تھی بہت کالی اور حبشی خاتون تھیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6771) صحيح مسلم (1459)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16581) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔