مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ماں باپ میں سے جب ایک اسلام قبول کر لے تو بچے کس کے ساتھ ہوں گے؟
حدیث نمبر: 2244
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شَبَهُهُ ، وَقَالَ رَافِعٌ : ابْنَتِي ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْعُدْ نَاحِيَةً " ، وَقَالَ لَهَا : " اقْعُدِي نَاحِيَةً " ، قَالَ : " وَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا " ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعُوَاهَا " ، فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أُمِّهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اهْدِهَا " ، فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، لیکن ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا ، اور آپ کے پاس آ کر کہنے لگی : بیٹی میری ہے ( اسے میں اپنے پاس رکھوں گی ) اس کا دودھ چھوٹ چکا تھا ، یا چھوٹنے والا تھا ، اور رافع نے کہا کہ بیٹی میری ہے ( اسے میں اپنے پاس رکھوں گا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کو ایک طرف اور عورت کو دوسری طرف بیٹھنے کے لیے فرمایا ، اور بچی کو درمیان میں بٹھا دیا ، پھر دونوں کو اپنی اپنی جانب بلانے کے لیے کہا بچی ماں کی طرف مائل ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اسے ہدایت دے “ ، چنانچہ بچی اپنے باپ کی طرف مائل ہو گئی تو انہوں نے اسے لے لیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ باشعور بچے کو اختیار دیا جائیگا کہ ماں باپ میں سے جس کو چاہے اختیار کر لے، اور دودھ پیتا بچہ ماں کے تابع ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2244
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, جعفر بن عبد الله صرح بالسماع من جده عند البيھقي (8/3) والحاكم (2/206) وھي رواية غريبة
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الطلاق 52 (3495)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 22 (2352)، (تحفة الأشراف: 3594)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/446، 447) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔