مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جب مرد عورت کے بعد اسلام قبول کرے تو کب تک عورت کو اسے لوٹایا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 2240
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْمَعْنَى ، كُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ لَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فِي حَدِيثِهِ : " بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ " ، وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ : " بَعْدَ سَنَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح پر واپس بھیج دیا اور نئے سرے سے کوئی نکاح نہیں پڑھایا ۔ محمد بن عمرو کی روایت میں ہے چھ سال کے بعد ایسا کیا اور حسن بن علی نے کہا : دو سال کے بعد ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2240
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون ذكر السنين , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1143) ابن ماجه (2009), داود بن الحصين ثقة ولكن قال ابن المديني : ’’ ما روي عن عكرمة فمنكر‘‘ (انظر الجرح والتعديل 409/3) والتقريب (1779) وغيرھما فالجرح (خاص) مفسر و مقدم, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85
حدیث تخریج « سنن الترمذی/النکاح 42 (1143)، سنن ابن ماجہ/النکاح 60 (2009)، (تحفة الأشراف: 6073)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217، 261، 351) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔