حدیث نمبر: 2226
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے “ ۔
حدیث نمبر: 2227
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " فَقَالَتْ : أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ ، قَالَ : " مَا شَأْنُكِ ؟ " قَالَتْ : لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا ، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ ، وَذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ " ، وَقَالَتْ حَبِيبَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ : " خُذْ مِنْهَا " ، فَأَخَذَ مِنْهَا ، وَجَلَسَتْ هِيَ فِي أَهْلِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، ایک بار کیا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے لیے نکلے تو آپ نے حبیبہ بنت سہل کو اندھیرے میں اپنے دروازے پر پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کون ہے ؟ “ بولیں : میں حبیبہ بنت سہل ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا بات ہے ؟ “ وہ اپنے شوہر ثابت بن قیس کے متعلق بولیں کہ میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا ، پھر جب ثابت بن قیس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” یہ حبیبہ بنت سہل ہیں انہوں نے مجھ سے بہت سی باتیں جنہیں اللہ نے چاہا ذکر کی ہیں “ ، حبیبہ کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! انہوں نے جو کچھ مجھے ( مہر وغیرہ ) دیا تھا وہ سب میرے پاس ہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے کہا : ” اس ( مال ) میں سے لے لو “ ، تو انہوں نے اس میں سے لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھی رہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہی اسلام میں پہلا خلع تھا، خلع سے نکاح منسوخ ہو جاتا ہے، خلع کی عدت ایک حیض ہے، بعض علماء کے نزدیک خلع سے ایک طلاق پڑ جاتی ہے، اس لئے ان لوگوں کے نزدیک اس کی عدت طلاق کی عدت کی طرح ہے، یعنی تین حیض ہے، پہلا قول راجح ہے۔
حدیث نمبر: 2228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو السَّدُوسِيُّ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ كَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، فَضَرَبَهَا فَكَسَرَ بَعْضَهَا ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الصُّبْحِ فَاشْتَكَتْهُ إِلَيْهِ ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتًا ، فَقَالَ : " خُذْ بَعْضَ مَالِهَا وَفَارِقْهَا " ، فَقَالَ : وَيَصْلُحُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَإِنِّي أَصْدَقْتُهَا حَدِيقَتَيْنِ ، وَهُمَا بِيَدِهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْهُمَا فَفَارِقْهَا " ، فَفَعَلَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان کو ان کے شوہر نے اتنا مارا کہ کوئی عضو ٹوٹ گیا ، وہ فجر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو بلوایا ، اور کہا کہ تم اس سے کچھ مال لے کر اس سے الگ ہو جاؤ ، ثابت نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، وہ بولے ، میں نے اسے دو باغ مہر میں دیئے ہیں یہ ابھی بھی اس کے پاس موجود ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں لے لو اور اس سے جدا ہو جاؤ “ ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ۔
حدیث نمبر: 2229
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّتَهَا حَيْضَةً " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُرْسَلًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان سے خلع کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عدت ایک حیض مقرر فرمائی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے عمرو بن مسلم سے عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ۔
حدیث نمبر: 2230
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ حَيْضَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` خلع کرانے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے ۔