مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ظہار کا بیان۔
حدیث نمبر: 2213
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ ابْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ عَيَّاشٍ : عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ الْبَيَاضِيُّ ، قَالَ : كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي ، فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ أَنْ أُصِيبَ مِنَ امْرَأَتِي شَيْئًا يُتَابَعُ بِي حَتَّى أُصْبِحَ ، فَظَاهَرْتُ مِنْهَا حَتَّى يَنْسَلِخَ شَهْرُ رَمَضَانَ ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ نَزَوْتُ عَلَيْهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ خَرَجْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الْخَبَرَ ، وَقُلْتُ : امْشُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : لَا وَاللَّهِ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " أَنْتَ بِذَاكَ يَا سَلَمَةُ " ، قُلْتُ : أَنَا بِذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَرَّتَيْنِ ، وَأَنَا صَابِرٌ لِأَمْرِ اللَّهِ ، فَاحْكُمْ فِيَّ مَا أَرَاكَ اللَّهُ ، قَالَ : " حَرِّرْ رَقَبَةً " ، قُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَهَا وَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي ، قَالَ : " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : وَهَلْ أَصَبْتُ الَّذِي أَصَبْتُ إِلَّا مِنَ الصِّيَامِ ، قَالَ : " فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ بِتْنَا وَحْشَيْنِ مَا لَنَا طَعَامٌ ، قَالَ : " فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ ، فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ ، وَكُلْ أَنْتَ وَعِيَالُكَ بَقِيَّتَهَا " ، فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي ، فَقُلْتُ : وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْيِ ، وَقَدْ أَمَرَنِي ، أَوْ أَمَرَ لِي ، بِصَدَقَتِكُمْ ، زَادَ ابْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : بَيَاضَةُ بَطْنٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` لوگوں کے مقابلے میں میں کچھ زیادہ ہی عورتوں کا شوقین تھا ، جب ماہ رمضان آیا تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھوں جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے چنانچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کر لیا ۔ ایک رات کی بات ہے وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آ گیا تو میں اس سے صحبت کئے بغیر نہیں رہ سکا ، پھر جب میں نے صبح کی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں سارا ماجرا سنایا ، نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں ، وہ کہنے لگے : اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا تو میں خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلمہ ! تم نے ایسا کیا ؟ “ میں نے جواب دیا : ہاں اللہ کے رسول ، مجھ سے یہ حرکت ہو گئی ، دو بار اس طرح کہا ، میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں ، تو آپ میرے بارے میں حکم کیجئے جو اللہ آپ کو سجھائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک گردن آزاد کرو “ ، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے علاوہ میرے پاس کوئی گردن نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو “ ، میں نے کہا : میں تو روزے ہی کے سبب اس صورت حال سے دوچار ہوا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ “ ، میں نے جواب دیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے ، ہمارے پاس کھانا ہی نہیں تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ ، وہ تمہیں اسے دے دیں گے اور ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا ، اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا “ ، اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا : مجھے تمہارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یا میرے لیے تمہارے صدقے کا حکم فرمایا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ظہار یہ ے کہ آدمی اپنی بیوی سے کہے «أنت علي كظهر أمي» یعنی تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا، شریعت اسلامیہ میں ایسا کہنے والا گنہگار ہو گا اور اس پر کفارہ لازم ہو گا، جب تک کفارہ ادا نہ کر دے وہ بیوی کے قریب نہیں جا سکتا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2213
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1198،3299) ابن ماجه (2062), ابن إسحاق مدلس ولم أجد تصريح سماعه وسليمان بن يسار لم يسمعه من سلمة, وللحديث شواھد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الطلاق 20 (1198)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 25 (2062)، (تحفة الأشراف: 4555)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/37، 5/436)، سنن الدارمی/الطلاق 9 (2319) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو الإرواء : 2091) ویأتی ہذا الحدیث برقم (2213) »
حدیث نمبر: 2214
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَتْ : ظَاهَرَ مِنِّي زَوْجِي أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو إِلَيْهِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَادِلُنِي فِيهِ ، وَيَقُولُ : " اتَّقِي اللَّهَ ، فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكِ " ، فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ : قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا سورة المجادلة آية 1 إِلَى الْفَرْضِ ، فَقَالَ : " يُعْتِقُ رَقَبَةً " ، قَالَتْ : لَا يَجِدُ ، قَالَ : " فَيَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ ، قَالَ : " فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَتْ : مَا عِنْدَهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَصَدَّقُ بِهِ ، قَالَتْ : فَأُتِيَ سَاعَتَئِذٍ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنِّي أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ ، قَالَ : " قَدْ أَحْسَنْتِ ، اذْهَبِي فَأَطْعِمِي بِهَا عَنْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَارْجِعِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ " ، قَالَ : وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا . قَالَ أَبُو دَاوُد فِي هَذَا : إِنَّهَا كَفَّرَتْ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْتَأْمِرَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا أَخُو عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں آپ سے شکایت کر رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ان کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” اللہ سے ڈر ، وہ تیرا چچا زاد بھائی ہے “ ، میں وہاں سے ہٹی بھی نہ تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی : «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها» ” اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی گفتگو سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق جھگڑ رہی تھی “ ( سورۃ المجادلہ : ۱ ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ایک گردن آزاد کریں “ ، کہنے لگیں : ان کے پاس نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھیں “ ، کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! وہ بوڑھے کھوسٹ ہیں انہیں روزے کی طاقت نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں “ ، کہنے لگیں : ان کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ۔ کہتی ہیں : اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کی ایک زنبیل آ گئی ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ( آپ یہ دے دیجئیے ) ایک اور زنبیل میں دے دوں گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ٹھیک ہی کہا ہے ، لے جاؤ اور ان کی جانب سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو ، اور اپنے چچا زاد بھائی ( یعنی شوہر ) کے پاس لوٹ جاؤ “ ۔ راوی کا بیان ہے کہ زنبیل ساٹھ صاع کی تھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کہ اس عورت نے اپنے شوہر سے مشورہ کئے بغیر اس کی جانب سے کفارہ ادا کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ عبادہ بن صامت کے بھائی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2214
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن دون قوله والعرق , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, معمر بن عبد اللّٰه : مجهول،انظر التحرير (2810), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
حدیث تخریج « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15825)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/410) (حسن) »
حدیث نمبر: 2215
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَالْعَرَقُ مِكْتَلٌ يَسَعُ ثَلَاثِينَ صَاعًا . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح کی روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ` «عرق» ایسی زنبیل ہے جس میں تیس صاع کے بقدر کھجور آتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث یحییٰ بن آدم کی روایت کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2215
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن دون قوله والعرق , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (2214), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15825) (حسن) »
حدیث نمبر: 2216
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : يَعْنِي بِالْعَرَقِ زِنْبِيلًا يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ` «عرق» سے مراد ایسی زنبیل ہے جس میں پندرہ صاع کھجوریں آ جائیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2216
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يحيي بن أبي كثير مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19586) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ خَمْسَةِ عَشَرَ صَاعًا ، قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلیمان بن یسار سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں آئیں تو آپ نے وہ انہیں دے دیں ، وہ تقریباً پندرہ صاع تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں صدقہ کر دو “ ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اور تمہارے گھر والے ہی انہیں کھا لو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2217
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل, وانظر الحديث السابق (2213), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم (2213)، (تحفة الأشراف: 18790) (حسن) »
حدیث نمبر: 2218
قَرَأْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ وَزِيرٍ الْمِصْرِيِّ ، قُلْتُ لَهُ : حَدَّثَكُمْ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أَوْسٍ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَ عَطَاءٌ لَمْ يُدْرِكْ أَوْسًا ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَدِيمُ الْمَوْتِ . وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ ، وَإِنَّمَا رَوَوْهُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ أَوْسًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پندرہ صاع جو دی تاکہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عطا نے اوس کو نہیں پایا ہے اور وہ بدری صحابی ہیں ان کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا ، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے ، اور لوگوں نے اسے اوزاعی سے اوزاعی نے عطاء سے روایت کیا اس میں «عن أوس» کے بجائے «أوسا» ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2218
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84, قَالَ أَبو دَاود:
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1743) (صحیح) » (دیگر شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ منقطع ہے)
حدیث نمبر: 2219
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ جَمِيلَةَ كَانَتْ تَحْتَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ رَجُلًا بِهِ لَمَمٌ ، فَكَانَ إِذَا اشْتَدَّ لَمَمُهُ ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ` جمیلہ رضی اللہ عنہا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، اور وہ عورتوں کے دیوانے تھے جب ان کی دیوانگی بڑھ جاتی تو وہ اپنی عورت سے ظہار کر لیتے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں کے متعلق ظہار کے کفارے کا حکم نازل فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2219
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث الآتي (2220)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16884) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2220
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی` اسی کے مثل مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16884) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2221
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ ثُمَّ وَاقَعَهَا قَبْلَ أَنَّ يُكَفِّرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ " ، قَالَ : رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ ، قَالَ : " فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ عَنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا ، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ “ اس نے کہا : چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3302), انظر الحديث الآتي (2223)
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الطلاق 19 (1199)، سنن النسائی/الطلاق 33 (3487)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 26 (2065)، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح) » (دیگر شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ روایت مرسل ہے)
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَرَأَى بَرِيقَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا ، پھر اس نے چاندنی میں اس کی پنڈلی کی چمک دیکھی ، تو اس سے صحبت کر بیٹھا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2222
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث الآتي (2223)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح) (سابقہ روایت دیکھئے) »
حدیث نمبر: 2223
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرِ السَّاقَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اسی طرح روایت ہے` لیکن اس میں پنڈلی کا ذکر نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (1199 وسنده حسن) والنسائي (3487 وسنده حسن) وابن ماجه (2065 وسنده حسن)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : 2221، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2224
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ الْمُخْتَارِ حَدَّثَهُمْ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عکرمہ سے` سفیان کی حدیث ( نمبر : ۲۲۲۱ ) کی طرح روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (2223)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : 2221، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2225
قَالَ أَبُو دَاوُد : وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ عِيسَى يُحَدِّثُ بِهِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : عَنْ عِكْرِمَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُد : كَتَبَ إِلَيَّ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے محمد بن عیسیٰ کو اسے بیان کرتے سنا ہے ، وہ کہتے ہیں` ہم سے معتمر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں : میں نے حکم بن ابان کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ اسے عکرمہ سے روایت کر رہے تھے اس میں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے حسین بن حریث نے لکھا وہ کہتے ہیں کہ مجھے فضل بن موسیٰ نے خبر دی ہے وہ معمر سے وہ حکم بن ابان سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (2223)
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم : 2221، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔