مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دل میں طلاق کے خیال آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2209
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا لَمْ تَتَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ ، وَبِمَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کو معاف کر دیا ہے جنہیں وہ زبان پر نہ لائے یا ان پر عمل نہ کرے ، اور ان چیزوں کو بھی جو اس کے دل میں گزرے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دل میں طلاق کا صرف خیال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2209
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2528) صحيح مسلم (127)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/العتق 6 (2528)، والطلاق 11 (5269)، والأیمان والنذور 15 (6664)، صحیح مسلم/الإیمان 58 (127)، سنن الترمذی/الطلاق 8 (1183)، سنن النسائی/الطلاق 22 (3464، 3465)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 14 (2040)، (تحفة الأشراف: 12896)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/393، 398، 425، 474، 481، 491) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔