مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عورت سے یہ کہنا کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔
حدیث نمبر: 2204
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَيُّوبَ : " هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ ؟ " قَالَ : " لَا ، إِلَّا شَيْئًا حَدَّثَنَاهُ قَتَادَةُ ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ " . قَالَ أَيُّوبُ : فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ فَسَأَلْتُهُ . فَقَالَ : مَا حَدَّثْتُ بِهَذَا قَطُّ . فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ ، فَقَالَ : بَلَى ، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حماد بن زید کہتے ہیں کہ` میں نے ایوب سے پوچھا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی اور نے بھی «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں وہی بات کہی ہے جو حسن نے کہی تو انہوں نے کہا : نہیں ، مگر وہی روایت ہے جسے ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، قتادہ نے کثیر مولی ابن سبرہ سے کثیر نے ابوسلمہ سے ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ایوب کہتے ہیں : تو کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے دریافت کیا ، وہ بولے : میں نے تو کبھی یہ حدیث بیان نہیں کی ، پھر میں نے قتادہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : ہاں کیوں نہیں انہوں نے اسے بیان کیا تھا لیکن وہ بھول گئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2204
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1178) نسائي (3439), قتادة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الطلاق 3 (1178)، سنن النسائی/الطلاق 11(3439)، (تحفة الأشراف: 14992) (ضعیف) » (اس کے راوی کثیر لین الحدیث ہیں)
حدیث نمبر: 2205
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ،عَنْ الْحَسَنِ ، فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ ، قَالَ : " ثَلَاثٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن سے` «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہو گی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «أمرك بيدك» کے معنی ہیں: تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے، یعنی تمہیں اختیار ہے، بعض کے نزدیک اس سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے، اور حسن بصری سے مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہو گی، لیکن ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث نمبر (۲۲۰۳) سے معلوم ہوا کہ کچھ واقع نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (2204), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14992، 18537) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔