کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نظر نیچی رکھنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 2148
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ ، فَقَالَ : " اصْرِفْ بَصَرَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اجنبی عورت پر ) اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی نظر پھیر لو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر قصداً شہوت کی نظر سے اسے دیکھے تو گنہگار ہو گا کیوں کہ اگلی حدیث میں ہے: ’’ آنکھ کا زنا غیر محرم عورت کا دیکھنا ہے ‘‘۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2148
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2159)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الآداب 10 (2159)، سنن الترمذی/الأدب 28 (2776)، (تحفة الأشراف: 3237)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/358، 361)، سنن الدارمی/الاستئذان 15 (2685) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2149
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : علی ! ( اجنبی عورت پر ) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے ، دوسری جائز نہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیوں کہ پہلی نظر بغیر قصد و اختیار کے پڑی ہے اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور دوسری نظر چونکہ قصداً ہو گی اس لئے اس پر گناہ ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2149
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2777), شريك القاضي مدلس وعنعن, وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (3/ 123), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأدب 28 (2777)، ( تحفة الأشراف: 2007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/159، 5/351، 357) (حسن) »
حدیث نمبر: 2150
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2150
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5241)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/النکاح 118 (5241)، سنن الترمذی/الأدب 38 (2792)، ( تحفة الأشراف: 9252)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (9231)، مسند احمد (1/387، 440، 443، 462، 464) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2151
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ لَهُمْ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ ، فَإِنَّهُ يُضْمِرُ مَا فِي نَفْسِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو ( اپنی بیوی ) زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی ، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا : ” عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ۱؎ ، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے ، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: عورت کو شیطان کی شکل میں اس وجہ سے فرمایا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ویسے بے پردہ عورت بھی بہکاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2151
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1403)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/النکاح 2 (1403)، سنن الترمذی/الرضاع 9 (1158)، ( تحفة الأشراف: 2975)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (9121)، مسند احمد (3/330) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2152
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ ، فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے ( قرآن میں وارد لفظ ) «لمم» ( چھوٹے گناہ ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث میں مذکور ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لیے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا ، چنانچہ آنکھوں کا زنا ( غیر محرم کو بنظر شہوت ) دیکھنا ہے زبان کا زنا ( غیر محرم سے شہوت کی ) بات کرنی ہے ، ( انسان کا ) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2152
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6243) صحيح مسلم (2657)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الاستئذان 12 (4243)، والقدر 9 (2612)، صحیح مسلم/القدر 5 (2657)، (تحفة الأشراف: 13573)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/276) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا " ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : " وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ ، وَالْفَمُ يَزْنِي فَزِنَاهُ الْقُبَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر انسان کے لیے زنا کا حصہ متعین ہے ، ہاتھ زنا کرتے ہیں ، ان کا زنا پکڑنا ہے ، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے ، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: چوں کہ یہ امور زنا کے ذرائع ہیں، اس لئے تشدیداً انہیں بھی زنا سے تعبیر کیا گیا ہے، گو ان کا گناہ زنا کے گناہ کے برابر نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2153
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن م دون جملة الفم , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح مسلم (2657)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 12625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/343، 536) (حسن) »
حدیث نمبر: 2154
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : " وَالْأُذُنُ زِنَاهَا الِاسْتِمَاعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ” اور کانوں کا زنا سننا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2154
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وله شاھد في صحيح مسلم (2657) وبه صح الحديث
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 12867)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/379) (حسن صحیح) »