حدیث نمبر: 2125
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِهَا شَيْئًا " ، قَالَ : مَا عِنْدِي شَيْءٌ ، قَالَ : " أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا : ” اسے کچھ دے دو “ ، انہوں نے کہا : میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تمہاری حطمی زرہ ۱؎ کہاں ہے ؟ “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ’’حطمي‘‘: زرہ ہے جو تلوار کو توڑ دے، یا حطمہ کوئی قبیلہ تھا جو زرہ بنایا کرتا تھا۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 2126
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ ، عَنْ شُعَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُعْطِيَهَا شَيْئًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ لِي شَيْءٌ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَعْطِهَا دِرْعَكَ " ، فَأَعْطَاهَا دِرْعَهُ ثُمَّ دَخَلَ بِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے روایت ہے` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا جب تک کہ وہ انہیں کچھ دے نہ دیں تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس کچھ نہیں ہے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنی زرہ ہی دے دو “ ، چنانچہ انہیں زرہ دے دی ، پھر وہ ان کے پاس گئے ۔
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی` اسی کے مثل مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 2128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُدْخِلَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَ خَيْثَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : خیثمہ کا سماع ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 2129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَّةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا ، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہو گی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا ( انعام وغیرہ ) ، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے “ ۔