کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: ایک شخص نے نکاح کیا مہر مقرر نہیں کی اور مر گیا اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2114
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا الصَّدَاقَ ، فَقَالَ : لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے` جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور پھر اس سے ہمبستری کرنے سے پہلے اور اس کا مہر متعین کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گیا تو انہوں نے کہا : اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور اس پر عدت لازم ہو گی اور اسے میراث سے حصہ ملے گا ۔ اس پر معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے بروع بنت واشق کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ فرمایا ۔
حدیث نمبر: 2115
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ،عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَاقَ عُثْمَانُ مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عبداللہ سے مروی ہے` عثمان نے اسی کے مثل روایت بیان کی ۔
حدیث نمبر: 2116
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي رَجُلٍ بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : " فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا ، أَوْ قَالَ : مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَإِنِّي أَقُولُ فِيهَا : إِنَّ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ، وَإِنَّ لَهَا الْمِيرَاثَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ ، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ ، فَقَامَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ فِيهِمْ الْجَرَّاحُ وَ أَبُو سِنَانٍ ، فَقَالُوا : يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، نَحْنُ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَاهَا فِينَا فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ ، وَإِنَّ زَوْجَهَا هِلَالُ بْنُ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيُّ كَمَا قَضَيْتَ ، قَالَ : فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَرَحًا شَدِيدًا حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا یہی مسئلہ پیش کیا گیا ، راوی کا بیان ہے کہ لوگوں کی اس سلسلہ میں مہینہ بھر یا کہا کئی بار آپ کے پاس آمدورفت رہی ، انہوں نے کہا : اس سلسلے میں میرا فیصلہ یہی ہے کہ بلا کم و کاست اسے اپنی قوم کی عورتوں کی طرح مہر ملے گا ، وہ میراث کی حقدار ہو گی اور اس پر عدت بھی ہو گی ، اگر میرا فیصلہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے ، اگر غلط ہے تو میری جانب سے اور شیطان کی طرف سے ہے ، اللہ اور اللہ کے رسول اس سے بری ہیں ، چنانچہ قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ جن میں جراح و ابوسنان بھی تھے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : ابن مسعود ! ہم گواہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں بروع بنت واشق - جن کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی ہیں ، کے سلسلہ میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا جو آپ نے کیا ہے ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جب ان کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو گیا تو بڑی خوشی ہوئی ۔
حدیث نمبر: 2117
حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بنُ يَحْيَى بنِ فارِسٍ الذُّهْلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَصْبَغِ الْجَزَرِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ : " أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ فُلَانًا ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، فَزَوَّجَ أَحَدَهُمَا صَاحِبَهُ ، فَدَخَلَ بِهَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ وَكَانَ مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَنِي فُلَانَةَ وَلَمْ أَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ أُعْطِهَا شَيْئًا ، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُهَا مِنْ صَدَاقِهَا سَهْمِي بِخَيْبَرَ ، فَأَخَذَتْ سَهْمًا فَبَاعَتْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَحَدِيثُهُ أَتَمُّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ " ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ ، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : يُخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ مُلْزَقًا ، لِأَنَّ الْأَمْرَ عَلَى غَيْرِ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں عورت سے کر دوں ؟ “ اس نے جواب دیا : ہاں ، پھر عورت سے کہا : ” کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ فلاں مرد سے تمہارا نکاح کر دوں ؟ “ اس نے بھی جواب دیا : ہاں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا نکاح کر دیا ، اور آدمی نے اس سے صحبت کر لی لیکن نہ تو اس نے مہر متعین کیا اور نہ ہی اسے کوئی چیز دی ، یہ شخص غزوہ حدیبیہ میں شریک تھا اور اسی بنا پر اسے خیبر سے حصہ ملتا تھا ، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا تھا ، لیکن میں نے نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اسے کچھ دیا ، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر سے ملنے والا حصہ اس کے مہر میں دے دیا ، چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لے کر ایک لاکھ میں فروخت کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث کے شروع میں ان الفاظ کا اضافہ کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو “ اور ان کی حدیث سب سے زیادہ کامل ہے اور اس میں «إن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال للرجل» کے بجائے «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم للرجل» ہے پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اندیشہ ہے کہ یہ حدیث الحاقی ہو کیونکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ درحقیقت مرض الموت میں اس شخص نے مہر سے زائد کی بابت ایسا کہا تھا۔