کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: کنواری لڑکی کا نکاح اس سے پوچھے بغیر اس کا باپ کر دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2096
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کہ چاہے تو نکاح باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کر لے۔
حدیث نمبر: 2097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ النَّاسُ مُرْسَلًا مَعْرُوفٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے` ابوداؤد کہتے ہیں : اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے ، اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے ۔