کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نکاح کے وقت لڑکی سے اجازت لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2092
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ، وَلَا الْبِكْرُ إِلَّا بِإِذْنِهَا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا إِذْنُهَا ؟ قَالَ : " أَنْ تَسْكُتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غیر کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے ، اور نہ ہی کنواری عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا جائے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس کی اجازت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اس کی اجازت یہ ہے کہ ) وہ خاموش رہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2092
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6970، 5136) صحيح مسلم (1419)
تخریج حدیث « تفرد بہ ابوداود، ( تحفة الأشراف: 15358)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 41 (5136)، والحیل 11 (6970)، صحیح مسلم/النکاح 9 (1419)، سنن الترمذی/النکاح 18 (1107، 1108)، سنن النسائی/النکاح 34 (3269)، سنن ابن ماجہ/النکاح 11 (1871)، مسند احمد (2/229، 250، 425، 434)، سنن الدارمی/النکاح 13 (2232) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2093
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْمَعْنَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا ، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا ". وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ومُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یتیم لڑکی سے اس کے نکاح کے لیے اجازت لی جائے گی ، اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کر دے تو اس پر زبردستی نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2093
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3133), رواه الترمذي (1109 وسنده صحيح) والنسائي (3272 وسنده حسن) وله شواھد صحيحة
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15014، 15113)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 19 (1109)، سنن النسائی/النکاح 36 (3272)، مسند احمد (2/259، 384) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 2094
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ ، زَادَ فِيهِ : قَالَ : " فَإِنْ بَكَتْ أَوْ سَكَتَتْ " ، زَادَ : بَكَتْ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلَيْسَ بَكَتْ بِمَحْفُوظٍ ، وَهُوَ وَهْمٌ فِي الْحَدِيثِ ، الْوَهْمُ مِنْ ابْنِ إِدْرِيسَ أَوْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي أَنْ تَتَكَلَّمَ قَالَ : " سُكَاتُهَا إِقْرَارُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی محمد بن عمرو سے اسی طریق سے یہی حدیث یوں مروی ہے` اس میں «فإن بكت أو سكتت» ” اگر وہ رو پڑے یا چپ رہے “ یعنی «بكت» ( رو پڑے ) کا اضافہ ہے ، ابوداؤد کہتے ہیں «بكت» ( رو پڑے ) کی زیادتی محفوظ نہیں ہے یہ حدیث میں وہم ہے اور یہ وہم ابن ادریس کی طرف سے ہے یا محمد بن علاء کی طرف سے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوعمرو ذکوان نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اس میں ہے انہوں نے کہا اللہ کے رسول ! باکرہ تو بولنے سے شرمائے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2094
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, رواه البخاري (5137، 6946، 6971) ومسلم (1420)
تخریج حدیث « حدیث محمد بن العلاء قد تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 15035)، وحدیث أبو عمر وذکوان عن عائشة، قد رواہ صحیح البخاری/النکاح 41 (5137)، صحیح مسلم/النکاح 9(1420)، سنن النسائی/ النکاح 34 (3268)، (تحفة الأشراف: 1675)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/45، 165، 203) (صحیح) » (مگر «بکت» کا لفظ شاذ ہے )
حدیث نمبر: 2095
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ لو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2095
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الثقة : لم أعرفه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 79
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 8598)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/34) (ضعیف) » (اس کی سند میں ایک راوی الثقة مبہم ہے)