مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ان عورتوں کا بیان جنہیں بیک وقت نکاح میں رکھنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 2065
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا ، وَلَا الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا ، وَلَا تُنْكَحُ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى ، وَلَا الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھوپھی کے نکاح میں رہتے ہوئے بھتیجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا ، اور نہ بھتیجی کے نکاح میں رہتے ہوئے پھوپھی سے نکاح درست ہے ، اسی طرح خالہ کے نکاح میں رہتے ہوئے بھانجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا ہے ، اور نہ ہی بھانجی کے نکاح میں رہتے ہوئے خالہ سے نکاح درست ہے ، غرض یہ کہ چھوٹی کے رہتے ہوئے بڑی سے اور بڑی کے رہتے ہوئے چھوٹی سے نکاح جائز نہیں ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: ہاں اگر ایک مر جائے یا اس کو طلاق دیدے تو دوسری سے شادی کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2065
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3171), أخرجه الترمذي (1126 وسنده صحيح) والنسائي (3298 وسنده صحيح)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/النکاح 27 (5109)، سنن الترمذی/النکاح 31 (1126)، سنن النسائی/النکاح 48 (3298)، ( تحفة الأشراف: 13539)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 4 (1408)، سنن ابن ماجہ/النکاح 31 (1930)، 30 (1126) موطا امام مالک/النکاح 8 (20)، مسند احمد (2/229، 255، 394، 401، 423، 426، 432، 452، 462، 465، 474، 489، 508، 516، 518، 529، 532)، سنن الدارمی/النکاح 8 (2224) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2066
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا ، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ اور بھانجی اور اسی طرح پھوپھی اور بھتیجی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2066
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5110) صحيح مسلم (1408)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/ النکاح 27 (5110، 5111)، صحیح مسلم/النکاح 4 (1408)، سنن النسائی/ النکاح 47 (3291)، ( تحفة الأشراف: 14288)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/401، 452، 518) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2067
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " كَرِهَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ ، وَبَيْنَ الْخَالَتَيْنِ وَالْعَمَّتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی اور خالہ کو ( نکاح میں ) جمع کرنے ، اسی طرح دو خالاؤں اور دو پھوپھیوں کو ( نکاح میں ) جمع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2067
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, خصيف : ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 6070)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 30 (1125)، مسند احمد (1/217) (ضعیف) » (اس کے راوی خصیف حافظہ کے ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 2068
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 ،قَالَتْ : " يَا ابْنَ أُخْتِي ، هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّهَا ، فَتُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا ، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ " ، قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ :وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، قَالَتْ : وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْهِمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ فِيهَا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآيَةِ الْآخِرَةِ : وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حِجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ " . قَالَ يُونُسُ : وَقَالَ رَبِيعَةُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3 ، قَالَ : يَقُولُ : اتْرُكُوهُنَّ إِنْ خِفْتُمْ ، فَقَدْ أَحْلَلْتُ لَكُمْ أَرْبَعًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے` اللہ تعالیٰ کے فرمان : «وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء سورة النساء» ۱؎ کے بارے میں دریافت کیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : بھانجے ! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے ، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو ( یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو ) چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا ، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں ۔ عروہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے نزول کے بعد یتیم لڑکیوں کے بارے میں حکم دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی : «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن وما يتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء اللاتي لا تؤتونهن ما كتب لهن وترغبون أن تنكحوهن» ۲؎ ام المؤمنین عائشہ نے کہا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ ان پر کتاب میں پڑھی جاتی ہیں اس سے مراد پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» اور اس دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے قول : «وترغبون أن تنكحوهن» سے یہی غرض ہے کہ تم میں سے کسی کی پرورش میں کم مال والی کم حسن والی یتیم لڑکی ہو تو وہ اس کے ساتھ نکاح سے بے رغبتی نہ کرے چنانچہ انہیں منع کیا گیا کہ مال اور حسن کی بنا پر یتیم لڑکیوں سے نکاح کی رغبت کریں ، ہاں انصاف کی شرط کے ساتھ درست ہے ۔ یونس نے کہا کہ ربیعہ نے اللہ کے فرمان : «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر پانے کا ڈر ہو تو انہیں چھوڑ دو ( کسی اور عورت سے نکاح کر لو ) میں نے تمہارے لیے چار عورتوں سے نکاح جائز کر دیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر پانے کا ڈر ہو تو تم ان عورتوں سے نکاح کر لو جو تمہیں اچھی لگیں (سورۃ النساء: ۳)
۲؎: لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے، اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں، جنہیں تم ان کا مقرر حق نہیں دیتے اور انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو (سورۃ النساء: ۱۲۶)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2068
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5064) صحيح مسلم (3018)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الشرکة 7 (2494)، الوصایا 21 (2763)، تفسیرسورة النساء 1 (4576)، النکاح 1 (5064)، 16 (5092)، 19 (5098)، 36 (5128)، 37 (5131)، 43 (5140)، الحیل 8 (6965)، صحیح مسلم/التفسیر 1 (3018)، سنن النسائی/النکاح 66 (3348)، ( تحفة الأشراف: 16693) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيُّ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ لَهُ : هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : لَا ، قَالَ : هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ ، وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى يُبْلَغَ إِلَى نَفْسِي ، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي ، وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا " ، قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ ، قَالَ : " حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي ، وَوَعَدَنِي فَوَفَّى لِي ، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن حسین کا بیان ہے` وہ لوگ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے زمانے میں یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ آئے تو ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہا : اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے تو میں نے ان سے کہا : نہیں ، انہوں نے کہا : کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار دے سکتے ہیں ؟ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ آپ سے اسے چھین لیں گے ، اللہ کی قسم ! اگر آپ اسے مجھے دیدیں گے تو اس تک کوئی ہرگز نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ وہ میرے نفس تک نہ پہنچ جائے ۱؎ ۔ علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی ۲؎ کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا ، اس وقت میں جوان تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فاطمہ میرا ٹکڑا ہے ، مجھے ڈر ہے کہ وہ دین کے معاملہ میں کسی آزمائش سے دو چار نہ ہو جائے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد شمس میں سے اپنے ایک داماد کا ذکر فرمایا ، اور اس رشتہ دامادی کی خوب تعریف کی ، اور فرمایا : ” جو بات بھی اس نے مجھ سے کی سچ کر دکھائی ، اور جو بھی وعدہ کیا پورا کیا ، میں کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال قطعاً نہیں کر رہا ہوں لیکن اللہ کی قسم ، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ہرگز ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی “ ۔
وضاحت:
۱؎: جب تک میری جان میں جان رہے گی اسے کوئی مجھ سے نہیں لے سکتا۔
۲؎: امام ابن قیم کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ہر طرح سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچانے کی حرمت ہے چاہے وہ کسی مباح کام کرنے سے ہو، اگر اس کام سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچے تو ناجائز ہو گا، ارشاد باری ہے: «وما كان لكم أن تؤذوا رسول الله» ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2069
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3110) صحيح مسلم (2449)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجمعة 29 (926)، فرض الخمس 5 (3110)، المناقب 12 (3714)، 16 (3729)، النکاح 109 (5230)، الطلاق 13 (5278)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 14 (2449)، سنن ابن ماجہ/النکاح 56 (1999)، سنن النسائی/ الکبری/ المناقب (8372)، ( تحفة الأشراف: 11278)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 61 (3867)، مسند احمد (4/326) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2070
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ و أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَسَكَتَ عَلِيٌّ عَنْ ذَلِكَ النِّكَاحِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن ابی ملیکہ سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : تو علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح سے خاموشی اختیار کر لی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2070
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5230) صحيح مسلم (2449)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 11278) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْنَى ، قَالَ أَحْمَدُ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : " إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَلَا آذَنُ ، ثُمَّ لَا آذَنُ ، ثُمَّ لَا آذَنُ ، إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا " . وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا : ” ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے ۱؎ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرانے کی اجازت مجھ سے مانگی ہے تو میں اجازت نہیں دیتا ، میں اجازت نہیں دیتا ، میں اجازت نہیں دیتا ، ہاں اگر علی ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں ، کیونکہ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو اسے برا لگتا ہے وہ مجھے بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف ہوتی ہے مجھے بھی ہوتی ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں سے مراد ابوالحکم عمرو بن ہشام جسے ابوجہل کہتے ہیں کے بھائی حارث بن ہشام اور سلمہ بن ہشام ہیں جو فتح مکہ کے سال اسلام لے آئے تھے اور اس میں ابوجہل کے بیٹے عکرمہ بھی داخل ہیں جو سچے مسلمان تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2071
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5230) صحيح مسلم (2449)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/المناقب 12 (3714)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 14 (2449)، سنن الترمذی/المناقب 61 (3867)، سنن النسائی/الکبری/ المناقب (8370، 8371)، ( تحفة الأشراف: 11267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/328) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔