مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مرد سے دودھ کا رشتہ۔
حدیث نمبر: 2057
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ ، قَالَ : تَسْتَتِرِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : مِنْ أَيْنَ ؟ قَالَ : أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي قَالَتْ : إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میرے پاس افلح بن ابوقعیس آئے تو میں نے پردہ کر لیا ، انہوں نے کہا : مجھ سے پردہ کر رہی ہو ، میں تو تمہارا چچا ہوں ؟ میں نے کہا : چچا کس طرح سے ؟ انہوں نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے نہ کہ مرد نے ، پھر میرے یہاں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے سارا واقعہ آپ سے بیان کر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تمہارے چچا ہیں ، وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2057
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5239) صحيح مسلم (1445)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 16373، 16917)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 7 (2644)، صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، سنن النسائی/النکاح 49 (3303)، موطا امام مالک/ الرضاع 1(3)، مسند احمد (6/194، 271) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔